مسیحائی

پرانے وقتوں کا قصہ ہے کہ کوئی ملک تھا جس کے باشندوں کے روگ مشہور تھے۔یوں ان کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ تھا اور بڑے بڑے صناع اور قابل لوگ ان میں پیدا ہوتے تھے لیکن علاقے کی آب و ہوا امراض و علائق کے لیے غیرمعمولی طور پر اثرپذیر واقع ہوئی تھی۔ کم و بیش ہر شخص ہی کسی نہ کسی ایسی تکلیف دہ اور مہلک بیماری میں مبتلا تھا کہ یا تو شباب کو پہنچنے سے پیشتر مر جاتا تھا یا پھر بےکسی و بےچارگی کے حال میں دھرتی پر بوجھ بن کر پڑا رہتا ۔ اردگرد کی قومیں دستور کے موافق کبھی کبھی اس ملک پر یلغار کر دیا کرتی تھیں۔ لطیفہ یہ تھا کہ فاتحین کو بھی اس تیرہ بخت نسل سے نحیف و نزار غلاموں اور چھوت کی بیماریوں کے سوا شاذ ہی کوئی مالِ غنیمت ملتا  تھا۔

نوبت باینجا رسید  کہ طالع آزما شہنشاہوں نے بھی مایوس ہو کر دوسرے خطے تاڑ لیے اور بیمارستان کو گویا بالکل فراموش کر دیا۔ بیمار دن رات چارپائیوں پر پڑے رہتے۔ آہ و زاری اور ماتم و فریاد کی صدائیں گونجتی رہتیں۔ وبائیں پھیلتی رہتیں اور انسان پیدا ہوتے اور مرتے رہتے۔ وقت کان لپیٹے گزرتا رہتا۔

ایک دن ایک طرفہ تماشا ہوا۔ بیمارستان کے ایک شخص نے دعویٰ کیاکہ وہ نہ صرف بالکل تندرست ہے بلکہ نے ایک ایسی اکسیر بھی ایجاد کر لی ہے جس سے وہ ملک کے ہر مریض کو بھلا چنگا کر سکتا ہے۔ اس کے قریب زمین پر اوندھے لیٹے ہوئے ایک کوڑھی نے اونچی آواز میں قہقہہ لگایا اور کہا، "تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے۔”

وہ شخص وہاں سے اٹھا اور بازار میں جا کر لوگوں کو اس عجیب دوا کے بارے میں بتانے لگا جو ہر بیمار کو ٹھیک کر سکتی تھی۔ لوگوں نے غل مچا دیا۔ "چل چل، نکل یہاں سے۔ بہت دیکھے تجھ جیسے مسیحا۔ بہت سنی ہیں یہ کہانیاں۔ عمریں گزر گئیں۔ آگے بھی گزار لیں گے۔ جا، کسی اور کو اپنا منجن بیچ۔”

دو ایک نوجوان جن کی علتیں ابھی انتہا کو نہ پہنچی تھیں، حیرت سے یہ تماشا دیکھتے رہے۔ وہ شخص بازار سے نکلا تو وہ اس کے پیچھے ہو لیے۔ گھر کے نزدیک پہنچے تو پکار کر کہنے لگے، "دکھا تو سہی، تیرے پاس کیا ہے؟” اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ وہ خوشی خوشی انھیں اندر لے گیا۔ بٹھایا، پانی پلایا، تواضع کی۔ پھر اٹھا اور ساتھ والے کمرے میں گیا۔ باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں اکسیر کی گولیاں تھیں۔ اس نے وہ نوجوانوں کے حوالے کر دیں۔ اشتیاق اور تحیر کےمارے نوجوانوں نے فوراً انھیں منہ میں رکھ لیا۔ انھیں سچ مچ معلوم ہونے لگا کہ وہ ٹھیک ہو گئے ہیں۔ الہٰی، یہ کیا؟

مسیحا کی شہرت پھیلنے لگی۔ تنازع پیدا ہونے لگا۔ بیماروں کا خیال تھا کہ اس علاقے میں ازل سے کوئی تندرست پیدا نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔ اگر کسی ٹونے ٹوٹکے سے علاج ممکن ہوتا تو ان کے باپ دادا کروا چکے ہوتے۔ آخر وہ بےوقوف نہیں تھے۔  اکسیر استعمال کرنے والے یہ لوگ جو خود کو صحت مند بتاتے ہیں دراصل شدتِ مرض کی تاب نہ لاتے ہوئے پاگل ہو گئے ہیں۔ ادھر مسیحا کے فیض یافتگان کا اصرار تھا کہ بیمار اور پاگل دونوں درحقیقت وہ لوگ ہیں جو مسیحا کے نسخۂِ کیمیا کی قدر نہیں کرتے۔ الغرض، ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہو گیا۔ بیماروں نے ٹھٹھا اڑانے کو اصلاحِ احوال کے لیے ناکافی سمجھتے ہوئے  تندرست افراد کے ساتھ مارکٹائی  شروع کر دی مگر ظاہر ہے کہ اس کا فائدہ تندرستوں کو ہوا۔اور بہت ہوا۔

لوگ جوق در جوق مسیحا کے گھر آنے لگے۔ وہ دن بھر دور دراز سے آئے ہوئے اجل گرفتہ روگیوں کی تواضع اور علاج کرتا رہتا۔ لوگ اچھے ہوتے رہتے اور اس کے اعجاز کا  چرچا پھیلتا رہتا۔ آہستہ آہستہ مسیحا کے مہمانوں کا ہجوم بڑھتا گیا۔ ادھر ملک کے بھاگ بھی کھل گئے۔ تن درست ہونے والے تن دہی سے کام کرنے کے قابل ہو گئے اور ملک کی بگڑی ہوئی حالت دنوں میں سنورنے لگی۔ کھیت تنومند کسانوں کے پیروں تلے سونا اگلنے لگے اور بازاروں کی رونق بڑھتی چلی گئی۔ مسیحا اپنا کام کرتا رہا۔ وہ خوش تھا۔

موت کا علاج تو کوئی اکسیر نہیں کر سکتی۔ لوگ مرتے تھے۔ اب بھی مرتے تھے۔ مگر جیتے مر مر کے نہیں تھے۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ اور دنیا دیکھ رہی تھی کہ بیمارستان ترقی کرنے لگا ہے۔ ایک اکسیر نے ملک کے ہر روگ کا درمان کر دیا ہے۔ سوائے موت کے۔ جس میں مسیحا کی موت بھی شامل تھی!

مسیحا مر گیا اور اس کا مطب اس کے ساتھیوں نے سنبھال لیا۔ تاہم ملک کے حالات اس وقت تک بہت کچھ بدل گئے تھے اور ایسی غیرمعمولی تبدیلی اور ترقی دیکھنے میں آئی تھی کہ پہلے اسے فراموش کر دینے والے پڑوسی بادشاہ دوبارہ متوجہ ہو گئے تھے۔ انھوں نے پھر یورشیں شروع کر دیں۔ مگر اب یہ بیمارستان تو نہ تھا کہ مزاحمت کے بغیر اپنے لعل غلام بنا کر ان کے حوالے کر دیتا۔ تندرست اور قابل لوگوں کا ملک تھا۔ لوگوں نے مسیحا کے ساتھیوں کی قیادت میں ڈٹ کر مقابلہ کیا اور نہ صرف دراندازوں کو مار بھگایا بلکہ الٹا ان کے ملک بھی ان سے چھین کر اپنے میں شامل کر لیے۔ چشمِ فلک حیرت سے پھٹ کر یہ منظر دیکھتی رہی۔ مریضوں کے دیس میں ایک اکسیر کا لایا ہوا انقلاب۔

مسیحا کے ساتھی بھی شدہ شدہ مر ہی گئے۔ مگر اکسیر کی شہرت چاردانگِ عالم میں پھیل چکی تھی۔ اطراف و اکناف سے مریضوں اور اپاہجوں نے دواخانے کا رخ کرنا شروع کیا۔ دنیا بھر سے لوگ آتے اور دواخانے میں شب و روز اکسیر بٹتی رہتی۔ انتظام مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اتنے لوگوں کی آمد کا بوجھ دواخانے کی پرانی عمارت نہ سہار سکتی تھی۔ مگر منتظمین اس کی توسیع و تجدید پر بھی آمادہ نہ تھے۔ وہ ڈرتے تھے کہ کسی نئے بندوبست سے اکسیر کی تاثیر جاتی نہ رہے یا اس میں کمی وغیرہ واقع نہ ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ خیال بالکل لغو تھا لیکن لوگ یہ سوچ کر خاموش ہو رہتے تھے کہ بہرحال یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔ جیسے چاہیں بست و کشاد کریں۔ عوام کو شفا سے غرض ہے وہ جیسے تیسے مل ہی جاتی ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ ہجوم بڑھتا گیا۔ مطب کی عمارت بالکل خستہ ہو کر رہ گئی۔ اس کا فائدہ کاروباری لوگوں نے اٹھایا اور شہر میں جا بجا سرائیں قائم کر لیں۔ مریض آتے تھے اور ان میں ٹھہر کر اپنی باری کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ اسے عقیدت کہیے یا اکسیر کے زائل ہونے کا خوف کہ دوا دینے کا طریقہ بھی وہی قدیمی چلا آ رہا تھا جو مسیحا سے مخصوص تھا۔ مریض کو بٹھا کر پانی پلایا جاتا، حال چال دریافت کیا جاتا، کھلایا پلایا جاتا، پھر منتظمین میں سے کوئی شخص اٹھ کے ساتھ والے کمرے میں جاتا اور کچھ دیر کے بعد آ کردوا ان کے حوالے کر دیتا۔

کچھ لوگوں نے احتجاج کیا کہ اس طرح بہت وقت صرف ہوتا ہے۔ بہت سے مریض انھی کاروائیوں کے دوران اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔ منتظمین کو چاہیے کہ وہ کوئی بہتر بندوبست کریں۔ اربابِ دواخانہ کو اس بات پر سخت غصہ آیا۔ انھوں نے معترضین کو ملامت کی اور کہا، "ہم اور ہم سے اگلے اتنے عرصے سے اس نظام کو چلاتے آ رہے ہیں۔ ہم بہتر جانتے ہیں یا تم؟ اتنے دانا ہو تو بھلا یہ تو بتاؤ کہ ہمارے آقا بیمار کو پانی پلانے کے بعد پہلی بات کیا فرمایا کرتے تھے؟” ظاہر ہے کہ اعتراض کرنے والے لاجواب ہو کر رہ گئے۔

کچھ عرصے کے بعد پھر یہی غل مچا۔ اب کی بار دواخانے والوں نے راست اقدام کا فیصلہ کیا اور اپنے ملازموں سے کہا کہ وہ معترضین کی اچھی طرح ٹھکائی کریں اور انھیں شہر سے نکال دیں۔ ملازمین کے ساتھ کچھ مریض اور ان کے گھر والے بھی جو اس خلل سے سخت منغض ہوئے تھے، اس کارِ خیر میں فی سبیل اللہ شریک ہو گئے۔احتجاج کرنے والوں کی طبیعت اچھی طرح صاف کر دی گئی۔

نظامِ دواخانہ اپنے روایتی طریق پر چلتا رہا۔ کچھ وقت امن سے گزرا مگر پھر اچانک ایک روز ایک قافلے والوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔  ان کا ایک مریض رسمی گفتگو کے دوران  میں مطب کی خستہ عمارت کا شہتیر سر پر گرنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔ وہ اعتراض کی سزا سے بھی واقف نہ تھے کیونکہ ان کے ملک سے پہلے کسی شخص کو دواخانہ میں حاضری کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ خیر، رفعِ شر کے لیے ان کی بھی شافی درگت بنائی گئی اور ترنت بوریا بستر گول کروا دیا گیا مگر اس کے بعد اعتراض و احتجاج کا  ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مطب میں آئے دن شور شرابا رہنے لگا۔ مارکٹائیاں ہوتی رہتیں۔ مریض انتظار میں مرتے رہتے اور ان کے لواحقین کلمۂِ حق کہنے کی پاداش میں  شہید ہوتے رہتے۔ صدیوں پرانے در و دیوار اور بام و سقف کے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے سے لوگ اور خود دواخانے کا عملہ بھی انٹا غفیل ہوتے رہتے۔ کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ فساد کی وجہ کیا ہے۔ کئی بار اربابِ دواخانہ سے باقاعدہ ٹھنڈے مذاکرات بھی ہوئے اور پوچھا گیا کہ آپ اکسیر فراہم کرنے کا کوئی آسان طریقِ کار آخر کیوں وضع نہیں کرتے۔ مگر ادھر ادھر کی تاویلات کے بعد منتظمین کی نئی نسلوں کی تان اسی بات پر آ کر ٹوٹتی تھی کہ ان کے باپ دادا بھی ہمیشہ نئے طریقِ کار کے سخت مخالف تھے اور اعتراض کرنے والوں کو زد و کوب کروا کے باہر پھنکوا دیا کرتے تھے۔ آخر وہ بےوقوف تو نہیں تھے نا؟

آشوب کے مارے  رفتہ رفتہ چوری چکاری بھی شروع ہو گئی۔ لوگ ادھر ادھر سے نقب لگا کر ساتھ والے کمرے میں داخل ہوتے اور جتنی اکسیر ہاتھ آتی لے کر چمپت ہو جاتے۔ مریض بغیر کمرے میں آئے، بیٹھے، پانی پیے، حال احوال بتائے، انتظار کیے ہی چوری کی اکسیر سے شفایاب ہونے لگے۔ اکسیر سمگل ہو ہو کر دساور کے بازاروں تک جا پہنچی تھی اور  دکھیارے گھر بیٹھے ہی اچھے ہو رہے تھے۔ یہ جسارت شفابخش سہی مگر نظامِ مسیحائی سے کھلی بغاوت کے مترادف تھی۔

مہتممینِ دواخانہ انگاروں پر لوٹ رہے تھے۔ ڈنکے بجے، اعلانات ہوئے اور دنیا کے کونے کونے میں جہاں جہاں سے مریض آیا کرتے تھے، یہ خبر پہنچا دی گئی کہ آئین و قانون کی رو سے اکسیر  کی ترسیل و تقسیم پر صرف اور صرف اربابِ دواخانہ کا حق ہے۔  وہ جسے چاہیں دیں، جسے چاہیں خالی ہاتھ لوٹا دیں۔ نیز بغیر کمرے میں حاضری دیے، پانی پیے، گپ شپ کیے وغیرہ جو شخص اکسیر استعمال کرے اسے ماہرینِ طب کے اجماع کی رو سے نہایت موذی اور لاعلاج پھوڑے نکلنے کا اندیشہ ہے جو فوراً وبا کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ۔ لہٰذا اگر  آئندہ کوئی شخص  چوری کی اکسیر بانٹتا یا استعمال کرتا پایا گیا تو اسے اور اس کی نسلوں کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا اور اس کے ملک سے آنے والے کسی شخص کو رہتی دنیا تک اکسیر فراہم نہیں کی جائے گی۔ اس کی ایسی کی تیسی۔ وغیرہ وغیرہ۔

پرانے وقتوں کے بیمارستان میں زندگی کا انقلاب برپا کرنے والا وہ دواخانہ آج بھی چل رہا ہے۔ اس کے در و دیوار اور بام و سقف کی خستہ و شکستہ سلیں آج بھی اپنوں پرایوں کے سروں پر موت بن کر گرتی رہتی ہیں۔ مریض تڑپتے رہتے ہیں۔ ڈنکے بجتے رہتے ہیں۔ زندگی ماتم کرتی رہتی ہے۔ اکسیر ساتھ کے کمرے میں پڑی دھول جمع کرتی رہتی ہے کیونکہ اب اسے چوری کرنے بھی کوئی نہیں آتا۔ منتظمینِ دواخانہ اور ان کے خانہ زاد شب و روز کمرے کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ ان کی نئی نسلوں کو یہی معلوم ہے کہ اس کمرے میں کسی کو گھسنے نہیں دینا چاہیے۔ کوئی پوچھے کہ کیوں تو کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اس کمرے میں گھسنے والوں کو نشانِ عبرت بنا دیا کرتے تھے۔

وہ بےوقوف تھے کیا؟

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب ہیں۔

فہرستِ منثورات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

”مسیحائی“ پر 1 عدد تبصرہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟