کیفیات

راحیلؔ فاروق

فہرست

سچے مذاہب نے اونچے معیارات قائم کیے ہیں۔ ان تک پہنچنے والا انسان فلاح پاتا ہے۔ جھوٹے مذاہب نے اور بھی اونچے معیارات قائم کیے ہیں۔ ان تک انسان پہنچ ہی نہیں سکتا۔

اصل صفحہ

کیا آپ نے گزشتہ نصف صدی میں کوئی ایسا مجموعۂ کلام پڑھا ہے جس کے دیباچے میں شاعر کا منفرد لب و لہجہ تخلیقی وفور سے ملاپ کر کے گہرے عصری شعور کو چونکا دینے والے تجربات کے ذریعے جمالیاتی اعتبار سے نئے امکانات میں نہ ڈھال رہا ہو؟

اصل صفحہ

سات ارب انسانوں کی دنیا میں ایک بھی ایسا نہیں جو کسی دوسرے کو بچا سکے۔ ایک بھی ایسا نہیں جو خود بچ سکے۔ سب چلتے پھرتے، جیتے جاگتے لوگ فنا کا مال ہیں۔ آج نہیں تو کل مٹی میں مل جانے والے ہیں۔ یہ رونقیں، یہ دلچسپیاں، یہ لگاؤ، یہ محبتیں، یہ کام، یہ مصروفیات کتنا بڑا دھوکا ہیں!

اصل صفحہ

تکبر سب سے زیادہ متکبر کو کھٹکتا ہے۔ چور کو چور پہچانتا ہے۔ زانی سے زانی کو چڑ ہوتی ہے۔ بزدل بزدلوں پر قہقہے لگاتا ہے۔ جھوٹا جھوٹ پکڑتا ہے۔ دردمند دردمندوں کو پا جاتا ہے۔ سخی سخیوں سے مقابلہ کرتا ہے۔ حسین حسینوں سے ہوشیار رہتا ہے۔ عاشق عاشقوں کو تاڑ لیتا ہے۔ دلیر دلیروں پر آنکھ رکھتا ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہمیں کیا اچھا لگتا ہے اور کیا برا۔ سمجھنا چاہیے کہ ہم کتنے اچھے ہیں اور کتنے برے۔

اصل صفحہ

پڑھنے سے اتنا ہی علم حاصل ہوتا ہے جتنی کھانے سے صحت ہوتی ہے۔

اصل صفحہ

ہم گناہگار انسان کو انسان نہیں سمجھتے۔ نیک انسان کو تو بالکل ہی انسان نہیں سمجھتے۔ پھر چراغ لے کر انسانیت ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں!

اصل صفحہ

جنت اور جہنم برحق ہیں مگر زندگی کمال کی چیز ہے۔ لوٹنے والے دونوں کے مزے لوٹ لیتے ہیں۔

اصل صفحہ

مذہب کا مسئلہ یہ ہے کہ جنھیں خدا سے ڈرنا چاہیے وہ خدا سے ڈرانا چاہتے ہیں۔

اصل صفحہ

ناقدین دنیائے ادب کے مولوی ہیں۔

اصل صفحہ

ہر انسان محبت کے لائق ہے۔ غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک شانِ محبوبی ہر جان کو ایسی عطا ہوئی ہے کہ کسی کو نہیں ملی۔ مگر دنیا کا امتحان یہی ہے کہ ہر انسان سے محبت کرنے کی طاقت کسی انسان کو نہیں دی گئی۔

اصل صفحہ

جو مولا کے بندے ہیں ان کے لیے سب مولا کے بندے ہیں۔ جو ملّا کے بندے ہیں ان کے ہاں ان کے سوا کوئی بندہ نہیں۔

اصل صفحہ

میں ایک مخبوط الحواس آدمی ہوں۔ سال پلٹے تو چھ ماہ حافظے کو اس افتاد سے سنبھلنے میں لگ جاتے ہیں۔ جب تک عادی ہوتا ہوں پھر نیا سال آن دھمکتا ہے۔ پاکستان کے یومِ آزادی، والد کے یومِ وفات اور اپنے یومِ ولادت کے سوا ہر تاریخ مورخین کے ایمان پہ چھوڑ رکھی ہے۔ یہ تین بھی یاد نہ دلائے جائیں تو گزرنے کے بعد یا پہلے شدت سے یاد آتے ہیں۔ کل فیضؔ کی برسی تھی۔ پہلے کہیں اقبالؔ کی سالگرہ گزری ہے۔ لوگ ایسے مواقع کا اہتمام٭ چاہتے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس سال والد کی برسی اور اپنی سالگرہ یاد رہی اس سال دیگر ارواح کو بھی ہرگز ایصالِ ثواب سے محروم نہیں کروں گا۔ ٭ لہجہ کی پیشکشوں کے تناظر میں۔

اصل صفحہ

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ فہرست اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

تنبیہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!