سائنس اور سائنسی طرزِ فکر پر یقین ہمارے ہاں کم و بیش ایک مذہب کی سی جارحیت اور کٹر پن اختیار کر گیا ہے۔ عوام کے جہل پر گرفت کرنے والے بر خود غلط علما کی اکثریت اس حقیقت سے ناواقفِ محض ہے کہ مغربی فلاسفہ میں بھی ہیوم سے لے کر رسل تک بہت سے قدآور لوگوں کے نزدیک سائنس کی علمی و عقلی بنیادیں مشتبہ اور موہوم ہیں۔
کیفیات
راحیلؔ فاروق
فہرست
قیامت کی نشانیاں بتا کر مختلف کاموں سے روکنے والے کیا چاہتے ہیں؟ قیامت نہ آئے؟ اس طرح نہیں آئے گی؟ اعمالِ صالحہ سے موت نہیں ٹلتی۔ قیامت ٹل جائے گی؟ یہ نشانیاں مبینہ طور پر مقرر اور مقدر ہیں۔ تو کیا کوئی انھیں پورا ہونے سے روک بھی سکتا ہے؟ مشیتِ ایزدی معلوم ہوتے ہوئے بھی اس کی اتنی مخالفت چہ معنیٰ دارد؟ کھلواڑ سمجھا ہے؟ چکر کیا ہے؟
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 28 جولائی 2019ء
- ربط
میں سیاست کا نبض شناس نہیں۔ نجوم سے شغف نہیں۔ الہام کا دعویٰ بھی نہیں۔ مگر زندگی کو حتی المقدور گہری اور ہمدردانہ نگاہ سے دیکھا ہے۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ جو شخص بگڑے ہوئے معاشرے کو سدھارنے کا بیڑا اٹھاتا ہے اسے ہمارے وزیرِ اعظم کے سے حالات پیش آتے ہیں۔
کہنے والوں کے پاس بہت باتیں ہیں۔ ہم سنتے بھی ہیں۔ سمجھتے بھی ہیں۔ مگر کیا کریں کہ زندگی نے سکھایا ہے کہ ہر چلتی ہوئی زبان کے پیچھے دماغ نہیں ہوتا۔ ہر روتا ہوا شخص مظلوم نہیں ہوتا۔ ہر مشکل مصیبت نہیں ہوتی۔ ہر لاجواب ہو جانے والا غلط بھی نہیں ہوتا!
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 10 جولائی 2019ء
- ربط
یہود و نصاریٰ نے گزشہ صدیوں میں عہد نامہ ہائے عتیق و جدید کے معتبر اور متفق علیہ تراجم پر توجہ دی ہے۔ اگر ہم ان کی کسی اچھی روایت کی بھی اتباع کرنے کی توفیق رکھتے ہیں تو مناسب وقت ہے کہ قرآنِ مجید کا ایک مستند اور خالص اردو ترجمہ اس پر ایمان رکھنے والے تمام مکاتبِ فکر کے اتفاق سے جاری کیا جائے جو مسلکی اور ذاتی حواشی، تعلیقات اور تاویلات سے حتی الوسع پاک ہو۔ اگر ہمارے علما فی الحقیقت علما ہیں، قرآن کا واقعی فہم اور اس کے معانی کا حقیقی درک رکھتے ہیں اور دکان آرائی، حبِ جاہ اور فرقہ پرستی سے سچ مچ مبرا ہیں تو یہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ عین نعمتِ دو جہاں ثابت ہو سکتا ہے۔
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 22 جون 2019ء
- ربط
راحیلؔ فاروق
پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔
کیفیات
چھوٹی چھوٹی باتیں۔ جذبات، کیفیات، احساسات اور خیالات۔ سماجی واسطوں پر دیے جانے والے سٹیٹس (status) کی طرح!
آپ کے لیے
جو مولا کے بندے ہیں ان کے لیے سب مولا کے بندے ہیں۔ جو ملّا کے بندے ہیں ان کے ہاں ان کے سوا کوئی بندہ نہیں۔
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 25 دسمبر 2020ء
- ربط
میں نے کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جس نے گالی دی ہو اور پھر کھائی نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ فکر اپنی نہیں، دوسروں کی عزت کی کرنی چاہیے۔
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 29 جون 2022ء
- ربط
تصوف بڑا مہنگا سودا ہے۔ مجھے اس کی راہوں پر چلنے کا تجربہ تو نہیں ہوا مگر بعض صوفیانہ کتب کی قیمتیں دیکھی ہیں۔ اللہ کی پناہ!
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 10 نومبر 2021ء
- ربط
بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ زبان سننی شروع کرتا ہے جو اس کے گھر میں بولی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کا دماغ گویا اس زبان سے لبا لب بھر جاتا ہے اور ایک روز کسی خوبصورت لفظ کی صورت میں اچانک چھلک پڑتا ہے۔ یہ زبان سیکھنے کا فطری طریقہ ہے۔ الفاظ ہوں یا معانی، املا ہو یا تلفظ، ہر پہلو سے میں نے اسی کو کارآمد ترین پایا ہے۔ جس چیز پر دستگاہ مقصود ہو، اسے ایک بچے کی طرح خود میں بھر لینا چاہیے۔ تھوڑی ہی مدت میں وہ فطرتِ ثانیہ کی طرح خود بخود آپ سے صادر ہونے لگے گی۔
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 31 جنوری 2022ء
- ربط
تکبر سب سے زیادہ متکبر کو کھٹکتا ہے۔ چور کو چور پہچانتا ہے۔ زانی سے زانی کو چڑ ہوتی ہے۔ بزدل بزدلوں پر قہقہے لگاتا ہے۔ جھوٹا جھوٹ پکڑتا ہے۔ دردمند دردمندوں کو پا جاتا ہے۔ سخی سخیوں سے مقابلہ کرتا ہے۔ حسین حسینوں سے ہوشیار رہتا ہے۔ عاشق عاشقوں کو تاڑ لیتا ہے۔ دلیر دلیروں پر آنکھ رکھتا ہے۔
ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہمیں کیا اچھا لگتا ہے اور کیا برا۔ سمجھنا چاہیے کہ ہم کتنے اچھے ہیں اور کتنے برے۔
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 25 مارچ 2021ء
- ربط