فریاد دلا کہ غمگساراں رفتند
سیمیں بدناں و گل عذاراں رفتند
چوں بوئے گل آمدند بر باد سوار
در خاک چو قطرہ ہائے باراں رفتند(میر ضاحکؔ)
اے دل، دہائی ہے کہ غم بانٹنے والے چلے گئے۔ چاندی کے سے بدن والے اور پھول جیسے گالوں والے چلے گئے۔ پھول کی خوشبو کی طرح ہوا پر سوار ہو کر آئے اور بارش کے قطروں کی طرح مٹی کے اندر چلے گئے۔
کاملی گفتست میباید بسی
علم و حکمت تا شود گویا کسیلیک باید عقل بی حد و قیاس
تا شود خاموش یک حکمت شناس(شیخ فرید الدین عطارؔ)
ترجمہ
ایک کامل کا قول ہے کہ بولنے کے لیے بڑے علم اور حکمت کی ضرورت ہے۔ لیکن چپ ہونے کے لیے حکمت والے کو (اس سے بھی زیادہ یعنی) بے انتہا عقل کی ضرورت پڑتی ہے۔
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 1 دسمبر 2021ء
- ربط