میرے پردادا خاندان کے پہلے پڑھے لکھے آدمی تھے۔ سنا ہوا ہے کہ اس زمانے میں سو میں ایک آدمی بھی تعلیم یافتہ نہ ملتا تھا۔ آج دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ ہزار میں ایک بھی تعلیم یافتہ نہیں۔ ایک دھوکا البتہ ہے جو لاکھوں دے رہے ہیں اور کروڑوں کھا رہے ہیں۔
بہت سے بےایمان دکاندار بھی شاید صرف اس لیے بخشے جائیں کہ خواتین سے بحث کے بعد انھوں نے خود کشی نہیں کی۔
راحیلؔ فاروق
- کیفیت نامہ
- 19 جولائی 2021ء
- ربط