بہن نے گاؤں سے ایک ملازمہ کو بھیجا۔ سیدھی سادی دیہاتی عورت ہانپتی کانپتی ہمارے ہاں پہنچی اور کہنے لگی، "گرمی اتنی ہے کہ شامی میرے بت تے روح دے جھیڑے ہوسن۔”
یعنی گرمی اتنی ہے کہ شام تک میرے بدن اور روح کے جھگڑے ہو رہے ہوں گے۔
مجھے خسروؔ کی ایک رباعی یاد آ گئی۔
آن روز كه روحِ پاكِ آدم به بدن
گفتند درآ نمی شد از ترس به تن
خواندند ملائكه به لحنِ داؤد
در تن در تن درآ درآ در تن تنجس دن آدم کی پاک روح سے کہا گیا کہ جسم میں آ جا اور وہ خوف کے مارے نہ آئی۔ فرشتے داؤد علیہ السلام کے لحن میں گانے لگے، تن میں تن میں آ جا آ جا تن میں (آخری مصرعہ ویسے ترجمے کے بغیر بھی معنیٰ خیز ہے کیونکہ یہ لحن کے بول ہیں).