کیفیات

راحیلؔ فاروق

فہرست

جو مولا کے بندے ہیں ان کے لیے سب مولا کے بندے ہیں۔ جو ملّا کے بندے ہیں ان کے ہاں ان کے سوا کوئی بندہ نہیں۔

اصل صفحہ

میں ایک مخبوط الحواس آدمی ہوں۔ سال پلٹے تو چھ ماہ حافظے کو اس افتاد سے سنبھلنے میں لگ جاتے ہیں۔ جب تک عادی ہوتا ہوں پھر نیا سال آن دھمکتا ہے۔ پاکستان کے یومِ آزادی، والد کے یومِ وفات اور اپنے یومِ ولادت کے سوا ہر تاریخ مورخین کے ایمان پہ چھوڑ رکھی ہے۔ یہ تین بھی یاد نہ دلائے جائیں تو گزرنے کے بعد یا پہلے شدت سے یاد آتے ہیں۔ کل فیضؔ کی برسی تھی۔ پہلے کہیں اقبالؔ کی سالگرہ گزری ہے۔ لوگ ایسے مواقع کا اہتمام٭ چاہتے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس سال والد کی برسی اور اپنی سالگرہ یاد رہی اس سال دیگر ارواح کو بھی ہرگز ایصالِ ثواب سے محروم نہیں کروں گا۔ ٭ لہجہ کی پیشکشوں کے تناظر میں۔

اصل صفحہ

میرے بزرگ خوش نویس تھے۔ میں نے بھی بچپن میں تختیاں لکھیں اور، یادش بخیر، تیسری چوتھی جماعت کی اردو کی کتاب میں یہ شعر پڑھا: گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس می نویس و می نویس و می نویس یعنی اگر تو چاہتا ہے کہ اچھا لکھنے والا ہو جائے تو لکھتا رہ، لکھتا رہ، لکھتا رہ۔ اس مشورے پر عمل تو خیر نہیں کیا مگر اب سافٹ وئیر کی مدد سے اردو لکھ کر خوش ہو لیتا ہوں۔ مجھے خطاطی کے مبادی سے بھی آگہی نہیں۔ نستعلیق سے عشق البتہ ہے۔ کتنی ہی کتابیں محض اس لیے خریدیں اور سنبھال کر رکھیں کہ ان میں کمپیوٹر کمپوزنگ کی بجائے نستعلیق کی کتابت موجود ہے۔ دوست کہتے ہیں کہ میں اچھی چائے پینے کے لیے لنڈی کوتل تک جا سکتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ نستعلیق کی ایک جھلک کا لالچ شاید مجھے ایران بھی لے جائے۔ اسی عشق کا اعجاز ہے کہ ہنر ور احباب کے ساتھ ساتھ غامدیؔ صاحب جیسے اربابِ علومِ اسلامیہ بھی لہجہ کے نقوش کو بنظرِ استحسان دیکھتے ہیں۔ شاد باش اے عشقِ خوش سودائے ما اے طبیبِ جملہ علت ہائے ما

اصل صفحہ

وقت بدل جاتا ہے۔ لوگ بھی بدل جاتے ہیں۔ بہت کم ہوتے ہیں جو رہتے ہیں اور نبھاتے ہیں۔ تعلق بیج ہے۔ ڈالنا مشکل نہیں۔ اگانا جوکھم ہے۔ لہجہ کے جو کرم فرما ساتھ رہے ہیں، اللہ کرے ہمیشہ ساتھ رہیں۔ ان جیسا کوئی نہیں۔

اصل صفحہ

سیاست پر اظہارِ خیال بیکار ہے۔ بڑے بڑے تجزیوں اور پیشگوئیوں کے مقابل ہمیں آج بھی یہی لگتا ہے کہ عوام بدعنوان موروثی سیاست دانوں کو کبھی دوبارہ موقع نہیں دینے کے۔ ہر چہ بادا باد!

اصل صفحہ

بہت لوگوں کو لہجہ کی حالیہ پیشکش سے گمان گزرا کہ جناب تہذیب حافیؔ نے شیخ بقاء اللہ خاں بقاؔ کی غزل سے سرقہ کیا ہے۔ ہم نے بقاؔ کا ایک شعر تعقید کے سبب چھوڑ دیا تھا۔ وہ بھی دیکھ لیجیے: بزم میں شیخ جی اب ہے کہ ہے یاں عیب نہیں فرش پر گر نہ ملی جا تو تلے بیٹھ گئے اگرچہ اس شعر سے یاروں کا گمان یقین میں بدل جائے گا تاہم ہم شاعرِ موصوف پر یہ تہمت عائد کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ ادب میں سرقہ ثابت کرنا فقۂ اسلامی میں زنا ثابت کرنے جتنا مشکل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یقین ہو بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے ہوتے ہوئے دیکھا ہو مگر نیتوں کا حال تو صرف اللہ جانتا ہے۔ تفنن برطرف، ہم آپ کو ادب میں سرقہ کی نسبت اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ذیل میں ایک مضمون کا ربط دیا گیا ہے جس میں ہم نے سرقہ کی نسبت اکابرینِ ادب کی آرا اور رویے نقل کیے ہیں: سرقہ، شعر اور اس کے حقوقِ ملکیت

اصل صفحہ

صحافی ادیب بن گئے ہیں اور ادیب صحافی۔ شعروں میں خبریں ہیں اور خبروں میں قافیہ پیمائیاں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

اصل صفحہ

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِىْ مَآ اُوْحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٝٓ اِلَّآ اَنْ يَّكُـوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْـمَ خِنزِيْرٍ فَاِنَّهٝ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْـرِ اللّـٰهِ بِهٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْـرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (انعام: 145) کہہ دو کہ میں اس وحی میں جو مجھے پہنچی ہے کسی چیز کو کھانے والے پر حرام نہیں پاتا جو اسے کھائے مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت کہ وہ ناپاک ہے یا وہ ناجائز ذبیحہ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، پھر جو بھوک سے بے اختیار ہوجائے ایسی حالت میں کہ نہ بغاوت کرنے والا اور نہ حد سے گزرنے والا ہو تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہی ہوئی بات کو کہتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبرِ پاکؐ کو حکم دیا ہے کہ وہ کہیں کہ ان تک جو وحی پہنچی ہے اس کی رو سے مردار، خون، سؤر یا غیر اللہ کے ذبیحے کے سوا کوئی شے کھانے والوں پر حرام نہیں۔ الخ۔ مگر کتنی دلچسپ بات ہے کہ احادیث کے کسی مجموعے میں اس مضمون کی ایک بھی حدیث نہیں ملتی! گویا احادیث کی رو سے کوئی ثبوت نہیں کہ رسولِ مصطفیٰؐ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کیا ہو۔ نعوذ باللہ، معاذ اللہ۔ الٹا جو روایات حلت و حرمت پر ملتی ہیں وہ اللہ کے دیے ہوئے اس حکم کے یکسر خلاف ہیں۔ ثم معاذ اللہ! اللہ عزوجل نے قرآنِ مجید میں بالتصریح فرمایا ہے کہ رحمت اللعالمینؐ اپنی خواہش یا مرضی سے کچھ نہیں کہتے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ ایک بات کہنے کا حکم دے اور وہ ہمارے نبیؐ کبھی کسی سے نہ کہیں اور جس بات کا اشارہ تک قرآن میں نہ ملے اس پر تواتر سے احادیث مل جائیں؟

اصل صفحہ

سب مجرم کے درپے ہیں۔ حیرت ہے کہ قانون بھی اس کے والدین سے نہیں پوچھنا چاہتا کہ بزرگو، خدا نے آپ کو ایک موم کا گڈا دیا تھا۔ آپ نے اسے سنگین درندہ کیسے اور کیوں بنا دیا؟   ہماری رائے میں ہر مجرم کے والدین کو کم از کم برابر کی سزا ہونی چاہیے۔ وہ دراصل جرم کے ماں باپ ہیں۔

اصل صفحہ

ہماری شناخت اکیسویں صدی کے پاکستانی کے سوا کچھ نہیں۔ ہم عرب نہیں ہیں۔ ترک نہیں۔ بھارتی نہیں۔ امریکی اور یورپی نہیں۔ ہمارا تمدن ان سب تمدنوں ہی کی طرح ایک منفرد اور بھرپور تمدن ہے۔ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ مذہب، سائنس، ترقی یا جغرافیے کے نام پر کسی کی غلامی اختیار کریں؟ خدا عرب اور ترکی کی طرح پاکستان کا بھی ہے۔ سائنس اور ترقی یورپ اور امریکہ کی طرح پاکستان کے لیے بھی ناممکن نہیں۔ ہندوستان کی طرح ایک جغرافیائی اور زمینی حقیقت مملکتِ خداداد پاکستان بھی ہے۔ ہماری شناخت اکیسویں صدی کے پاکستانی کے سوا کچھ نہیں۔

اصل صفحہ

لاہور میں وکلا کے امراضِ قلب کے ہسپتال پر حملے کے تناظر میں (اقبالؒ کی روح سے معذرت کے ساتھ) سبق پھر پڑھ جہالت کا ضلالت کا رذالت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا میں وکالت کا

اصل صفحہ

وہ زمانہ میں نے دیکھا ہے کہ راہ چلتی خواتین تاریک اور ویران راہوں میں مرد کی پرچھائیں دیکھ کر لرز اٹھتی تھیں۔ دل ڈوبنے لگتا تھا کہ خدا جانے کون مردوا ہے۔ عورت ذات دیکھ کر شرارت نہ کرے۔ لیکن وہی آدمی ڈاڑھی والا نکلا تو گویا پوبارہ ہو گئی۔ ہائے، یہ تو مولوی ہے۔ بھلا مانس ہے بیچارہ۔ کچھ نہیں کہے گا۔ بلکہ کسی نے کہا تو بچائے گا۔ یہ زمانہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مرد بھی اکیلے میں مولوی کو دیکھ لیں تو پیشاب خطا ہو جاتا ہے۔

اصل صفحہ

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ فہرست اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

کوائف

تنبیہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!