مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

ہمارا تعلیمی سرمایہ

شذرہ

4 ستمبر 2023ء

پاکستان کا حال تو جو ہے سو ہے، مستقبل خاکم بدہن اس سے زیادہ تاریک نظر آتا ہے۔ وجوہات اس کی بہت سی ہیں مگر میں یہ ان لوگوں کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا ہوں جو ہمارے مستقبل کے معمار کہلاتے ہیں۔ یعنی طلبہ۔ آدھی عمر پڑھنے اور آدھی پڑھانے میں گزر چکی ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی تعلیم کا معیار کچھ ایسا بلند نہ تھا مگر اب تو وہ گت ہو چکی ہے کہ خدا گواہ بچوں کو اسکول بھیجنے کی بجائے گھر بٹھانے یا بازار میں کھڑا کر دینے کو بہتر جانتا ہوں۔ اور ان شاءاللہ اپنی اولاد کے ساتھ یہی کروں گا۔

قصور طلبہ کا نہیں۔ ان میں حسبِ دستور ذہین بھی ہیں اور غبی بھی۔ علم سے مناسبت رکھنے والے بھی اور نفور بھی۔ اچھے بھی اور برے بھی۔ مسئلہ نظامِ تعلیم کا ہے۔ سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک بچے کیا پڑھ رہے ہیں، یہ فیصلہ ایک پڑھا لکھا شخص ایک دن کے مشاہدے میں کر سکتا ہے۔ مگر صرف پڑھا لکھا۔ اور وہ ہمارے اکثر لوگ نہیں ہیں۔ اس لیے انھیں لگتا ہے کہ ان کے بچے لاکھوں وصولنے والے اداروں میں واقعی علم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ نئے فیشن کے کپڑے پہنتے ہیں۔ بول چال میں رنگ برنگے الفاظ کا تڑکا لگاتے ہیں، مستقبل کے حوالے سے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ یقیناً کچھ اچھا ہی ہو گا۔ مگر نہیں۔ یقیناً کچھ برا ہونے والا ہے۔ آپ کے بچے کے ساتھ نہ سہی، مگر ان لاکھوں بچوں کے ساتھ ضرور جو یہ ادارے تھوک کے حساب سے نکالتے چلے جا رہے ہیں۔

حالات بہت خراب ہیں۔ بہت زیادہ خراب۔ ماں باپ ایک بچے کو سولہ جماعتیں پڑھانے میں بلا مبالغہ لاکھوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں۔ سولہ طویل برسوں کا زیاں اس کے علاوہ ہے۔ اور حاصل؟ ٹھن ٹھن گوپال۔ اس کی جگہ دو چار برس مکینک کے پاس گزارنے والا بچہ تیس پینتیس ہزار گھر لانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مگر ہو سکتا ہے کہ آپ کو بھی یہ فینسی قسم کا خیال آتا ہو کہ تعلیم روزی کے لیے نہیں، شعور کے لیے ہوتی ہے۔ بات تو ٹھیک ہے۔ ذرا غور بھی فرمائیے کہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والا آپ کا بچہ شعور کے کس درجے پر ہے؟ اگر کپڑے لتے اور وڈیو گیمز کا نام شعور ہے تو آپ کو مبارک ہو۔ لیکن اگر زندگی گزارنے اور رشتے نبھانے اور اقدار کو سمجھنے وغیرہ کو شعور کہتے ہیں تو پھر وہی بات ہے کہ آپ لٹ گئے۔ بری طرح لٹ گئے۔

تعلیم کاروبار ہے۔ صرف نجی سطح پر نہیں، سرکاری سطح پر بھی۔ یہ ظالم علم بیچتے ہوتے تو میں پھر بھی کہتا کہ خرید لیجیے۔ مگر یہ علم کا نام بیچتے ہیں۔ جیسے ملا خدا کا نام بیچتا ہے۔ مداری جادو کا نام بیچتا ہے۔ ڈاکٹر صحت کا نام بیچتا ہے۔ علم ان کے پاس خود نہیں ہے۔ آپ کی اولاد کو کیا دیں گے؟ مجھے حیرت عوام پر نہیں۔ سمجھ دار لوگوں پر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو چلانے والے اور ان میں پڑھانے والے لوگوں کی اہلیت کیا ہے؟ اس نظام کے خدوخال کیا ہیں؟ انھیں معلوم ہے کہ نوکری کرنے والے اساتذہ عالم نہیں ہیں۔ ملازم ہیں۔ انھیں کمرۂ جماعت میں موجود ہونے اور زبان چلانے کے تھوڑے سہی مگر پیسے ملتے ہیں۔ اکثریت صرف اس لیے استاد کے منصب پر فائز ہے کیونکہ ان کے آگے بیٹھنے والے بیچارے نادان اور معصوم طلبہ ہیں۔ نظام کا حال پاکستان میں تیار ہونے والے نصاب اور نصابی مواد سے ظاہر ہے۔ باشعور لوگ اچھی طرح واقف ہیں کہ حکومت لوگوں کو دانستہ بے وقوف بنا رہی ہے۔ ایک گھسیارا بھی اپنے بیٹے کو اس طرح گھاس کاٹنا نہیں سکھاتا جس طرح یہ قوم کے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ پھر تعلیم سے امید لگاتے ہیں؟ ایں خیال است و محال است و جنوں۔

صاحبو، اس سب واہی تباہی کا کوئی مقصد نہیں۔ بس جو روزانہ نظر سے گزرتا ہے کبھی کبھی بہت زیادہ تکلیف دے دیتا ہے۔ میرے اردگرد میرے پیاروں کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہو رہا ہے جس کا اوپر رونا رویا ہے۔ بہت دکھ پہنچتا ہے مگر کیا کر سکتا ہوں؟ کبھی کبھی کسی عزیز سے کہہ بیٹھتا ہوں کہ گریجویٹ بیٹی سے فلاں سوال تو کرو۔ پڑھے لکھے بیروزگار جوان سے فلاں بات تو پوچھو۔ مگر اس کا بھی کیا حاصل ہے؟ اب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشباتیں
اگلی نگارشعالمی ادب اور ہمNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

کتابیں اور دیپیکا

2 فروری 2021ء

شاعرانہ مزاج

18 دسمبر 2023ء

پرستش سے خدائی تک

27 فروری 2018ء

نہ جنوں رہا نہ پری رہی

4 مئی 2021ء

پاسِ ذاتیات

20 جون 2019ء

تازہ ترین

انفرادیت کی تلاش

30 جنوری 2026ء

صحبتِ بد

10 جنوری 2026ء

رعایت

24 دسمبر 2025ء

کتے

20 دسمبر 2025ء

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔