پاکستان کا حال تو جو ہے سو ہے، مستقبل خاکم بدہن اس سے زیادہ تاریک نظر آتا ہے۔ وجوہات اس کی بہت سی ہیں مگر میں یہ ان لوگوں کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا ہوں جو ہمارے مستقبل کے معمار کہلاتے ہیں۔ یعنی طلبہ۔ آدھی عمر پڑھنے اور آدھی پڑھانے میں گزر چکی ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی تعلیم کا معیار کچھ ایسا بلند نہ تھا مگر اب تو وہ گت ہو چکی ہے کہ خدا گواہ بچوں کو اسکول بھیجنے کی بجائے گھر بٹھانے یا بازار میں کھڑا کر دینے کو بہتر جانتا ہوں۔ اور ان شاءاللہ اپنی اولاد کے ساتھ یہی کروں گا۔
قصور طلبہ کا نہیں۔ ان میں حسبِ دستور ذہین بھی ہیں اور غبی بھی۔ علم سے مناسبت رکھنے والے بھی اور نفور بھی۔ اچھے بھی اور برے بھی۔ مسئلہ نظامِ تعلیم کا ہے۔ سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک بچے کیا پڑھ رہے ہیں، یہ فیصلہ ایک پڑھا لکھا شخص ایک دن کے مشاہدے میں کر سکتا ہے۔ مگر صرف پڑھا لکھا۔ اور وہ ہمارے اکثر لوگ نہیں ہیں۔ اس لیے انھیں لگتا ہے کہ ان کے بچے لاکھوں وصولنے والے اداروں میں واقعی علم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ نئے فیشن کے کپڑے پہنتے ہیں۔ بول چال میں رنگ برنگے الفاظ کا تڑکا لگاتے ہیں، مستقبل کے حوالے سے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ یقیناً کچھ اچھا ہی ہو گا۔ مگر نہیں۔ یقیناً کچھ برا ہونے والا ہے۔ آپ کے بچے کے ساتھ نہ سہی، مگر ان لاکھوں بچوں کے ساتھ ضرور جو یہ ادارے تھوک کے حساب سے نکالتے چلے جا رہے ہیں۔
حالات بہت خراب ہیں۔ بہت زیادہ خراب۔ ماں باپ ایک بچے کو سولہ جماعتیں پڑھانے میں بلا مبالغہ لاکھوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں۔ سولہ طویل برسوں کا زیاں اس کے علاوہ ہے۔ اور حاصل؟ ٹھن ٹھن گوپال۔ اس کی جگہ دو چار برس مکینک کے پاس گزارنے والا بچہ تیس پینتیس ہزار گھر لانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مگر ہو سکتا ہے کہ آپ کو بھی یہ فینسی قسم کا خیال آتا ہو کہ تعلیم روزی کے لیے نہیں، شعور کے لیے ہوتی ہے۔ بات تو ٹھیک ہے۔ ذرا غور بھی فرمائیے کہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والا آپ کا بچہ شعور کے کس درجے پر ہے؟ اگر کپڑے لتے اور وڈیو گیمز کا نام شعور ہے تو آپ کو مبارک ہو۔ لیکن اگر زندگی گزارنے اور رشتے نبھانے اور اقدار کو سمجھنے وغیرہ کو شعور کہتے ہیں تو پھر وہی بات ہے کہ آپ لٹ گئے۔ بری طرح لٹ گئے۔
تعلیم کاروبار ہے۔ صرف نجی سطح پر نہیں، سرکاری سطح پر بھی۔ یہ ظالم علم بیچتے ہوتے تو میں پھر بھی کہتا کہ خرید لیجیے۔ مگر یہ علم کا نام بیچتے ہیں۔ جیسے ملا خدا کا نام بیچتا ہے۔ مداری جادو کا نام بیچتا ہے۔ ڈاکٹر صحت کا نام بیچتا ہے۔ علم ان کے پاس خود نہیں ہے۔ آپ کی اولاد کو کیا دیں گے؟ مجھے حیرت عوام پر نہیں۔ سمجھ دار لوگوں پر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو چلانے والے اور ان میں پڑھانے والے لوگوں کی اہلیت کیا ہے؟ اس نظام کے خدوخال کیا ہیں؟ انھیں معلوم ہے کہ نوکری کرنے والے اساتذہ عالم نہیں ہیں۔ ملازم ہیں۔ انھیں کمرۂ جماعت میں موجود ہونے اور زبان چلانے کے تھوڑے سہی مگر پیسے ملتے ہیں۔ اکثریت صرف اس لیے استاد کے منصب پر فائز ہے کیونکہ ان کے آگے بیٹھنے والے بیچارے نادان اور معصوم طلبہ ہیں۔ نظام کا حال پاکستان میں تیار ہونے والے نصاب اور نصابی مواد سے ظاہر ہے۔ باشعور لوگ اچھی طرح واقف ہیں کہ حکومت لوگوں کو دانستہ بے وقوف بنا رہی ہے۔ ایک گھسیارا بھی اپنے بیٹے کو اس طرح گھاس کاٹنا نہیں سکھاتا جس طرح یہ قوم کے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ پھر تعلیم سے امید لگاتے ہیں؟ ایں خیال است و محال است و جنوں۔
صاحبو، اس سب واہی تباہی کا کوئی مقصد نہیں۔ بس جو روزانہ نظر سے گزرتا ہے کبھی کبھی بہت زیادہ تکلیف دے دیتا ہے۔ میرے اردگرد میرے پیاروں کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہو رہا ہے جس کا اوپر رونا رویا ہے۔ بہت دکھ پہنچتا ہے مگر کیا کر سکتا ہوں؟ کبھی کبھی کسی عزیز سے کہہ بیٹھتا ہوں کہ گریجویٹ بیٹی سے فلاں سوال تو کرو۔ پڑھے لکھے بیروزگار جوان سے فلاں بات تو پوچھو۔ مگر اس کا بھی کیا حاصل ہے؟ اب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔