کچھوے اور بچھو کی حکایت آپ نے سنی ہو گی کہ بچھو دریا پار کرتے ہوئے کچھوے کی پیٹھ پر ڈنک مارتا تھا۔ کچھوے نے کہا، ” یہ تو کیا کرتا ہے؟ میں تجھے دوست جان کر ڈوبنے سے بچاتا ہوں اور تو مجھے ڈستا ہے؟“ بچھو نے کہا، ” بخدا میں بھی تجھے دشمن نہیں سمجھتا۔ مگر یہ میری عادت ہے۔“
بزرگوں سے سن رکھا ہے کہ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ میں اب تک اس کا یہ مطلب سمجھتا آیا ہوں کہ برے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے لوگ انجامِ کار آپ کو بھی برا سمجھنے لگتے ہیں۔ مگر شاعر کہتا ہے:
چہل سال عمرِ عزیزت گزشت
مزاجِ تو از حالِ طفلی نہ گشت
(عمرِ عزیز کے چالیس برس گزر گئے مگر تیری طبیعت کا بچپنا نہ گیا۔)
افسوس کہ اس مقولے کی گہرائی بڑی دیر سے کھلی۔ جاننا چاہیے کہ بچھو کے ساتھ دیکھ کر دنیا تو کچھوے کو زہریلا سمجھتی ہے سو سمجھتی ہے مگر ادھر بچھو بھی کمبخت کچھوے کو معاف نہیں کرتا۔ اور اس خصلت سے واسطہ نہ اخلاق کا ہے نہ عقل کا۔ یعنی ایک تو دوست کو ڈسنا اخلاقاً معیوب اور مکروہ ہے۔ دوسرا عقل کہتی ہے کہ پتھر پر ڈنک مارنے کا کچھ بھی فائدہ نہیں۔ مگر بچھو ٹھہرا عادت سے مجبور۔
میں جانتا ہوں کہ برے لوگ آپ کے ساتھ مخلص بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر میں یہ بھی جان گیا ہوں کہ ان سے آپ کو فائدہ کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ آپ کہیں گے کہ دوستی فائدے کے لیے نہیں ہوتی۔ ایسا ہے تو میں ایک اور کہاوت کہتا ہوں کہ دوست وہی جو مصیبت میں کام آئے۔ یعنی فائدہ پہنچائے۔ یہ چند گھنٹے بیٹھ کے، ہی ہی ہاہا کر کے اور کھا پی کے اٹھ جانے سے عبارت ” بےلوث“ دوستی اور اس سے وابستہ سطحی اقدار عصرِ حاضر کا فتنہ ہیں۔ صدیوں کی آزمودہ حکمت وہی ہے جو کہاوت کہہ رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ فائدہ نہ پہنچے تو بھی کم از کم نقصان تو نہیں پہنچنا چاہیے۔ مگر پہنچتا ہے۔ پہنچ کے رہتا ہے۔
پنجابی کے صوفئ صافی میاں محمد بخش فرماتے ہیں:
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا
ککر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا
یعنی سفلوں کی دوستی سے کسی کو کچھ نہیں ملا۔ کیکر پر انگور کی بیل چڑھائی اور ہر خوشہ گھائل کروا بیٹھے۔