مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

انفرادیت کی تلاش

انشائیہ

30 جنوری 2026ء

قدرت نے انسان کو فرد پیدا کیا ہے۔ یعنی الگ، یکتا، یگانہ اور بےمثل۔ قرآنِ مجید آدم کی نسبت فرماتا ہے کہ نَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ‌ (السجدۃ: ۹)۔ خدا تعالیٰ نے اس میں اپنی روح پھونکی۔ اس پھونک کا ایک اثر تو یہ ہے کہ ہر انسان دوسروں سے مختلف ہے اور اس لحاظ سے بےہمتا۔ مگر اسی پر بس نہیں۔ یہ انفرادیت اپنا اظہار چاہتی ہے اور تقاضا کرتی ہے کہ اس کے مقابل ضرور کوئی ایسا یک رنگ اور یک ساں گروہ ہو جس سے وہ خود کو ممتاز کر سکے۔ اکیلا انسان کسی سے مختلف نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر سب انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوں تو بھی کسی ایک کو منفرد قرار دینا ممکن نہ ہو گا کیونکہ سبھی مختلف ہیں اور سبھی منفرد ہیں۔ لہٰذا انفرادیت کے دعوے کا صرف ایک ہی امکان رہ جاتا ہے کہ مقابلہ اور موازنہ ملتے جلتے یا ایک جیسے لوگوں کے کسی گروہ سے ہو۔

قدرت نے اس خواہش کی تسکین کا بندوبست بڑے عجیب اور لطیف انداز میں کیا ہے۔ یعنی ہر انسان کے اندر اکا دکا خصوصیات ایسی رکھ دی گئی ہیں جو زیادہ تر دوسروں میں نہیں ملتیں۔ باقی سب پہلوؤں سے وہ ہوبہو اکثریت کے مانند ہے اور انھی میں شمار ہوتا ہے مگر یہ اکا دکا خصوصیتیں اسے فرد اور منفرد ہونے کا زبردست احساس دلا دیتی ہیں اور تقاضا کرتی ہیں کہ وہ ان کے ذریعے اپنے وجود اور انفرادیت کا پرزور اعلان کرے۔ شاعر کے نزدیک دنیا میں دو ہی قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ خود اور دوسرے وہ جو اس کی طرح شاعر نہیں۔ لہٰذا وہ چاہتا ہے کہ دنیا اسے ایک بےنظیر اور بےمثال آدمی کے طور پر پہچانے اور یاد رکھے۔ مداری کی رائے میں دنیا اس کے بعد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو اس کے سے کرتب نہیں دکھا سکتے۔ پس وہ چاہتا ہے کہ اس کا نام ہو اور لوگ کہیں کہ اس جیسا کوئی نہیں۔ ایسے ہی خیالات کیمیا دان، فلسفی، تاجر، مستری، مصور، چمار، پنڈت، پادری، ملا، سورما، حسین وغیرہ بھی اپنی اپنی نسبت رکھتے ہیں۔ اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ بعض سیانے ان خیالات کا کبھی اظہار نہیں کرتے۔ لیکن اگر بالفرض کوئی شخص واقعی ایسا ہو کہ اسے اپنی انفرادیت کا کچھ شعور اور دعویٰ ہی نہ ہو تو شاید اس کا ہونا نہ ہونا ویسے ہی برابر ہے۔

لیکن دیکھا جائے تو بات وہیں ہے جہاں سے چلی تھی۔ یعنی اگر ہر شخص ہی منفرد ہے تو پھر انفرادیت چہ معنیٰ دارد؟ ہر کسی کا منفرد ہونا اصولی طور پر بجا سہی مگر عملاً اس خیال کا کچھ فائدہ نہیں۔ نہ معاشرے کو اور نہ فرد کو۔ میں منفرد ہوں تو کیا ہوا؟ آپ بھی ہیں۔ یہ بھی ہے۔ وہ بھی ہے۔ سب ہیں۔ لہٰذا ٹھیک ہونے کے باوجود یہ بات کچھ زیادہ ٹھیک نہیں۔ تو پھر؟

کیا انسان کے پاس کوئی راہ نہیں جس سے وہ خود کو دوسروں سے ممتاز کر سکے؟ یعنی حقیقی معنوں میں ممتاز؟ جس پر چلنے والے بہت کم، بہت ہی کم ہوں؟ یا پھر انفرادیت کا کوئی آفاقی اور متفق علیہ قسم کا پیمانہ؟ جس پر پورا اترنے والے سچ مچ منفرد ہو جائیں؟ انھیں کیمیا دان، تاجر، چمار، مصور اور مولوی کی طرح اپنے منہ میاں مٹھو نہ بننا پڑے؟ کوئی ایسی صلاحیت، ہنر، کمال، فن یا طاقت جس پر سچی اور ٹھوس انفرادیت کا اطلاق ہو سکے؟

شاید آپ کہیں کہ ایسا ممکن نہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ انسان کے لیے مانگی تانگی صلاحیتوں اور مہارتوں سے بہت آگے نکل کر، بہت اوپر اٹھ کر ایک حقیقی انفرادیت کا حامل ہو جانا واقعی ممکن ہے۔ اس کا پیمانہ بھی متفق علیہ اور آفاقی ہے۔ اور اس کی راہ اتنی سیدھی ہے کہ ہر کوئی چل سکتا ہے۔ اور اتنی انوکھی کہ بس کوئی کوئی چلتا ہے۔ بقولِ شاعر:

کوئی مجھ تک پہنچ نہیں سکتا
اتنا آسان ہے پتا میرا

صاحبو، حقیقی انفرادیت کی یہ راہ جہاں تک ہمیں معلوم ہوئی ہے، اچھائی، نیکی اور بھلائی کی راہ ہے۔ ایک اچھا انسان دراصل ہر اعتبار سے اور ہر پیمانے پر اور ہر معیار کی رو سے منفرد کہلانے کا موزوں اور مناسب ترین امیدوار ہے۔ کیوں؟ اور کیسے؟ آئیے، غور کریں۔

عقل کہتی ہے کہ اچھا انسان بننا اچھا کھلاڑی، اچھا فلسفی، اچھا مداری، اچھا مصور بننے سے بہت بہتر ہے۔ اچھا انسان بےشک ان کے سے کمالات کا اظہار نہیں کر سکتا مگر اس کے دو وصف ایسے ہیں جو ہر طرح کے کمالات پر بھاری ہیں۔ اول یہ کہ اچھے انسان سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا احتمال نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ دوم یہ کہ اس سے سب کو فائدہ پہنچتا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کھلاڑی کے کھیل، فلسفی کی فکر، طبیب کے علاج، مداری کے کرتب اور مصور کی تصویر وغیرہ میں بھی ہم دراصل کسی نہ کسی فائدے کے متلاشی ہیں۔ ہمیں لطف آتا ہے یا علم حاصل ہوتا ہے یا شفا نصیب ہوتی ہے یا طاقت ملتی ہے۔ یہ سب فائدے ہیں۔ تو کیا وہ شخص بہتر ہے جس کے کسی ایک ہنر سے ہمیں کچھ فائدہ ہوتا ہو یا وہ جس کے ہر کام میں سب کا بھلا اور سب کی خیر ہو؟ جواب ظاہر ہے۔ چنانچہ انسان کے کمالات میں سب سے بڑا کمال اس کی نیکی اور بھلائی کو سمجھنا چاہیے۔ اور اس کی کسوٹی یہ ہے کہ اگر ہر انسان کھلاڑی یا تاجر یا طبیب یا عالم یا شاعر یا حسین بن جائے تو شاید کچھ خاص فرق نہ پڑے گا لیکن اگر ہر شخص اچھا بن جائے تو یقیناً دنیا جنت بن جائے گی۔

اسی سے یہ نکتہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ اچھائی دراصل کوئی ایک کمال نہیں بلکہ گوناگوں کمالات کا ایک مجموعہ ہے۔ کوئی شخص تب تک اچھا نہیں کہلا سکتا جب تک اس کی اچھائیاں اس کی برائیوں سے تعداد اور تاثیر میں بڑھ نہ جائیں۔ کچھ نہ کچھ اچھائیاں تو ہر ایک میں مل ہی جاتی ہیں۔ اور تو اور، ابلیس کے سر بھی موحد ہونے کا سہرا سجا ہوا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ اچھا کہلانے کے لیے اس قسم کی خوبیاں کام نہیں دیتیں۔ انسان اچھا صرف تب ہو سکتا ہے جب وہ مختلف اور متعدد اچھائیوں کو اپنی ذات میں اس طرح جمع کر لے کہ اس سے دوسروں کو پہنچنے والا نقصان نہایت کم ہو جائے اور نفع بہت زیادہ۔ جس طرح دلھا صرف سہرا باندھ کر دلھا نہیں کہلا سکتا اور اس مقصد کے لیے اسے تراش خراش سے لے کر کپڑے جوتے تک بہت کچھ چاہیے ہوتا ہے اسی طرح اچھا کہلانے کے لیے آدمی کو صرف رحم، انکسار، وفا، محبت، عجز، صبر، حلم، شجاعت وغیرہ خوبیاں اکیلی اکیلی درکار نہیں بلکہ جہاں تک ممکن ہو ان سب کو کسی نہ کسی درجے میں موجود ہونا چاہیے۔ اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انسان کی اچھائی اور بھلائی فی الواقع کس قدر نادر اور نایاب شے ہے۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب عقل کے اس فیصلے کی زبردست طور پر تائید کرتا ہے۔ الہامی کتابیں ہنرمندوں، سائنسدانوں، فنکاروں، کاریگروں، دانشوروں، کھلاڑیوں، حکمرانوں اور کاروباریوں کے کارناموں سے بالکل ہی اعتنا نہیں کرتیں۔ ان کے نزدیک ان میں سے کوئی کمال سرے سے اس لائق نہیں کہ اسے انسان کی حقیقی کامیابی اور سچی شناخت قرار دیا جا سکے اور اس کی سنجیدہ تعلیم پر توجہ کی جائے۔ دنیا بھر کے مقدس صحائف یک زبان ہیں کہ اگر کوئی کمال، کوئی صلاحیت، کوئی خوبی، کوئی کارنامہ انسان کے شایانِ شان ہے تو وہ دراصل اچھائی، نیکی اور بھلائی کے کام ہیں۔ گویا انسان کا شعور ناپ تول کر، چھان پھٹک کر اور سوچ سمجھ کر جس نتیجے پر پہنچا ہے عین اسی کی تعلیم وحی نے بھی دی ہے۔ اس سے بڑا اتفاق شاید انسان کی علمی اور عملی زندگی میں کہیں اور نہیں مل سکتا۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اچھائی جسے ہم نے انفرادیت کا صحیح اور اصلی معیار قرار دیا ہے، دنیا میں کتنے کم یا زیادہ لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر اس معیار پر اکثر لوگ پورے اتریں تو اچھی ہونے کے باوجود یہ کوئی مابہ الامتیاز شے نہیں ہو سکتی۔ لیکن اگر اکثریت اس پیمانے پر ہلکی ہو اور بہت تھوڑے لوگ پورے نکلیں تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ یہ سچی انفرادیت کی بنیاد ہے۔ تو صاحبو، ہمارا مشاہدہ، ہماری عقل اور ہمارا مذہب تینوں یک زبان ہیں کہ اچھائی دنیا میں بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ اپنی گوناگوں خوبیوں کے باوجود حقیقی معنوں میں اچھے کہلانے کے لائق نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جوں جوں عمر گزارتا ہے، اس کی اعتبار کی حس مرتی جاتی ہے اور وہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہوتا چلا جاتا ہے۔ عقل اس مشاہدے پر صاد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اچھائی اگر نایاب نہ ہو تو اس کی قدر ہی کیوں ہو؟ قدر تو کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا اچھائی کم ہے اور اسے کم ہی ہونا چاہیے۔ یہی اس کی شان ہے۔

اب ذرا ابلیس کا قول ملاحظہ فرمائیے جب اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا ہے:

قَالَ اَرَءَيۡتَكَ هٰذَا الَّذِىۡ كَرَّمۡتَ عَلَىَّ لَٮِٕنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَاَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلاً‏ (الإسراء: ۶۲)

کہنے لگا: بھلا بتاؤ، یہ ہے وہ مخلوق جسے تو نے میرے مقابلے میں عزت بخشی ہے؟ اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو میں اس کی اولاد میں سے تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب کے جبڑوں میں لگام ڈالوں گا۔

چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:

تنگ دروازے سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازہ چوڑا ہے اور وہ راستہ کشادہ ہے جو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے اور اس سے داخل ہونے والے بہت ہیں۔ کیونکہ وہ دروازہ تنگ اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔

(انجیلِ مقدس بروایتِ متی ۷: ۱۳-۱۴)

کہانی لمبی ہے مگر مولائے روم نے اسے نہایت دلچسپ انداز میں سمیٹ دیا ہے۔ ہم اسی پر اختتام کرتے ہیں۔

دی شیخ با چراغ ہمے گشت گِرد شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست

گفتند یافت مےنشود جستہ ایم ما
گفت آں چہ یافت مےنشود آنم آرزوست

کل ایک بزرگ چراغ لیے شہر میں گھوم رہا تھا کہ شیطانوں اور حیوانوں سے آزردہ ہوں اور انسان کی خواہش رکھتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کہ وہ تو نہیں ملنے کا۔ ہم ڈھونڈ چکے۔ کہنے لگا کہ جو نہیں ملنے کا مجھے اسی کی آرزو ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشصحبتِ بد

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

1 خیال ”انفرادیت کی تلاش“ پر

  1. عمیر خان
    31 جنوری 2026ء بوقت 10:40

    الله آپ کو سلامت رکھے راحیل بھائی۔ آپ کی ایک تحریر ایک کتاب پڑھنے کے برابر ہے۔ بہت کچھ سمجھا دیا آپ نے آج۔

    جواب دیں

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

جس کا نام ہے آدم

14 جولائی 2019ء

جا ری عقل

29 جون 2024ء

ہیر نہ آکھو کوئی

28 مارچ 2016ء

یومِ خواتین اور پورا سچ

8 مارچ 2021ء

مباش منکرِ غالبؔ

17 جنوری 2019ء

تازہ ترین

صحبتِ بد

10 جنوری 2026ء

رعایت

24 دسمبر 2025ء

کتے

20 دسمبر 2025ء

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء

جا ری عقل

29 جون 2024ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔