آج ایک عورت چاندنیاں بیچنے آئی۔ بہن اور بیگم بھاؤ تاؤ کرنے لگیں۔ میں کھانا کھاتے ہوئے سن رہا تھا اور افسوس کر رہا تھا۔ عورت بار بار کہہ رہی تھی کہ ہم مالک نہیں۔ مزدوری پر سامان بیچتے ہیں۔ مگر گھر کی خواتین جرنیل بنی ہوئی تھیں۔
وہ عورت لحظہ بھر کو نظر سے ہٹی تو میں نے کہا کہ تم لوگ مانگنے والوں کو بھی تو دیتے ہو۔ یہ ان سے زیادہ حق دار ہے۔ ہزار پانچ سو زیادہ دے دینے میں کوئی حرج نہیں۔
اس کے بعد میں سو گیا۔ ابھی اٹھا ہوں تو معلوم ہوا کہ چودہ ہزار والی چاندنیوں کا سودا چار ہزار میں طے ہو گیا۔ خواتین حسبِ معمول مہنگائی پر افسردہ ہیں۔ میں زندگی میں پہلی مرتبہ چودہ ہزار کی خریداری پر دس ہزار ”رعایت“ دیکھ کر ایک ناقابلِ بیان مسرت کا شکار ہوں۔