مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

الوداع، اماں!

شذرہ

4 مئی 2024ء

انتیس اپریل کو ابو جان کی انیسویں برسی تھی۔ اور ماں جی کا جنازہ۔

کچھ دن پہلے چھوٹے بھائی نے کہا تھا کہ مجھے انتیس اپریل سے بہت ڈر لگتا ہے۔ میں نے عقلمندوں کی طرح اسے سمجھایا کہ اس قسم کے وسوسوں کو دل میں جگہ نہیں دینی چاہیے۔ فلاں فلاں واقعات کو دیکھو۔ لوگوں نے کیا سوچا اور اللہ نے کیا کیا۔ لہٰذا یہ خیال اپنے دل سے نکال کر ماں جی کی خدمت پر توجہ دو۔ اور پھر جنازے سے پہلے بھائی نے کہا، آج انتیس اپریل ہے۔ میں نے کہا تھا نا، بھائی؟

اپریل ہم چار میں سے تین بہن بھائیوں کی پیدائش کا مہینہ ہے۔ ۲۹ اپریل ۲۰۰۵ء کو جب میں انیس برس کا ہو گیا تھا، ابو جان کا انتقال ہو گیا۔ پھر پورے انیس برس اور گزرے اور امسال اماں رخصت ہو گئیں۔ سانسیں تو آج بھی اللہ ہی کی امانت ہیں مگر خیال آتا ہے کہ اگلے انیس برس کے بعد شاید میں خود نہ رہوں۔ ابو امی کے بعد باری تو میری ہی بنتی ہے۔

ابو جان ہمیں توڑ کر چلے گئے تھے۔ ماں جی نے ان انیس سالوں میں کرچی کرچی جوڑ کر ابو کے گھر کو واپس گھر بنایا۔ کیا زیور، کیا برتن ہر چیز بیچ ڈالی۔ اپنی اولاد کو تعلیم دلائی، شادیاں کیں، نوکریاں لگوائیں۔ پھر جب بوئی ہوئی فصل کاٹنے کا وقت آیا تو چل بسیں۔ مائیں سب کی ہیرو ہوتی ہیں۔ مجھے اپنی ماں کی فضیلت جتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ مگر یہ بھی حق ہے کہ میں ان جیسی کوئی عورت کم از کم اپنے خاندان میں نہیں دیکھتا۔ وہ نمازی پرہیزی عورت تو تھیں ہی۔ مگر مصلے سے روئے بغیر نہ اٹھتی تھیں۔ ہمیں احساس نہ تھا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ معمول تھا اور معمول ہی معلوم ہوتا تھا کہ نماز پڑھیں گی تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں گی۔ پھر رندھی ہوئی آواز میں دعا کریں گی اور آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گریں گے۔ چہرہ تر ہو جائے گا۔ کتنی بار ماں کے قریب سے گزرتے ہوئے یونہی آمین کہہ دیتا تھا۔ ماں کا تر بتر چہرہ چوم لیتا تھا۔ یہ سب معمول تھا۔ مگر اب وہ چلی گئی ہیں تو سوچتا ہوں کہ ایسی نماز پڑھنے والا دوسرا پتا نہیں کہاں ملے گا؟ اور ملا بھی تو ہمارے لیے دعا تھوڑی مانگے گا؟ اور مانگی بھی تو یہ بھروسا اور حوصلہ کسے ہو گا کہ بغیر سوچے، بغیر سمجھے آمین کہہ سکے؟ ماں تو جو بھی مانگتی تھیں ٹھیک مانگتی تھیں۔ مجھ سے کبھی دعا کے لیے کہتیں تو میں کہتا تھا، آپ مانگیں۔ ہماری تو آمین ہے، بابا۔

یہی دعائیں تو تھیں کہ ایک کمزور، بے سہارا، غریب عورت نے گھر سے ایک قدم نکالے بغیر اپنے بچوں کے سب بندوبست کر دیے۔ کیسا معجزہ ہے؟ لوگ ایک سرکاری ملازمت کو ترستے ہیں۔ ہم چار بہن بھائیوں کو نو ملازمتیں ملیں۔ میں نے پہلی چھوڑنے کے سات سال بعد دوسری ملازمت چھتیس برس کی عمر میں شروع کی جب قوانین کے مطابق میں سرکاری نوکری کے لیے نااہل ہو چکا تھا۔ یہ سب وہ نحیف و نزار عورت مصلے پر بیٹھ کر کروا رہی تھی جس کے بارے میں ہم بہن بھائی مذاق کیا کرتے تھے کہ اللہ میاں کے پیچھے پڑ جاتی ہیں۔

میں نے ایم اے اردو کا امتحان دیا تو نصاب میں عبداللہ حسین کا ناول اداس نسلیں بھی شامل تھا۔ شہرت پہلے بھی سنی ہوئی تھی۔ میں نے بھائی سے کہا کہ یہ ناول لا دو۔ پڑھوں تو سہی۔ بھائی ناول لایا تو ماں جی نے کہا کہ میں بھی پڑھوں گی۔ میں نے کہا، پہلے آپ پڑھ لیں۔ ایک دو روز کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ کتاب میرے سرھانے پڑی ہے۔ میں نے پوچھا، ماں جی، پڑھ بھی لی؟ کہنے لگیں، نہیں۔ پہلے پڑھی ہوئی ہے۔ ایک چٹی ان پڑھ عورت کا یہ جواب اس کے بظاہر تعلیم یافتہ بیٹے کے لیے خاصا حیران کن تھا۔

ہم نے ماں کا زیور بکتا دیکھا، برتن بکتے دیکھے، ضرورت کی چیزیں بکتی دیکھیں۔ ماں کو گھر میں اپنے جاگنے سے پہلے اور سونے کے بعد تک کام کرتے دیکھا، فاقے دیکھے، زخم اور روگ دیکھے، دوا دارو کی محتاجی دیکھی مگر نہ دیکھا تو کاغذ کا وہ ٹکڑا جو گھر میں آ گیا باہر جاتے نہ دیکھا۔ ٹکے ٹکے کی چیزیں بک گئیں، دس دس روپے کا قرض لینا پڑ گیا مگر مجال ہے کہ ایک کتاب کسی کو پیسوں کے عوض دی ہو یا دینے دی ہو۔ سولہ سترہ سال پہلے انٹرنیٹ لگوایا تو اماں کو بتایا کہ پڑھائی کے لیے ضروری ہے۔ بس پھر کھانے کو کچھ تھا یا نہ تھا، انٹرنیٹ کا بل ضرور نکلا۔

چھوٹے بھائی نے چھ ماہ سے چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی سنبھال لی تھی۔ صبح دوپہر شام امی کی خدمت میں حاضر تھا۔ آخری تین چار دن میں سونے اور کھانے پینے سے بھی بے نیاز ہو گیا۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ مالک، میرے بھائی کے لیے میری ماں کو جیتا رکھ۔ مگر مالک کی مرضی۔ مجھے اندیشہ تھا کہ بھائی پاگل ہو جائے گا۔ مگر بھائی ٹھیک ہے۔ مالک کا کرم۔

باتیں بہت ہیں۔ مگر کیا کریں؟ بس سوچتا ہوں کہ ابو امی کیا اس جہان میں خوش ہوں گے؟ ہمارے بغیر؟

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشغلام یاسین فوت ہو گیا
اگلی نگارشجا ری عقلNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

داتا صاحب، چور اور چوروں کے بچے

12 نومبر 2018ء

داستانِ آدمیت

22 اکتوبر 2023ء

سیدھا سادا سارا سودا

9 دسمبر 2013ء

نصر من اللہ

19 جولائی 2013ء

نہ جنوں رہا نہ پری رہی

4 مئی 2021ء

تازہ ترین

انفرادیت کی تلاش

30 جنوری 2026ء

صحبتِ بد

10 جنوری 2026ء

رعایت

24 دسمبر 2025ء

کتے

20 دسمبر 2025ء

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔