یوں ہوا کہ کچھ مہذب اور ہمدرد انسان ویرانے سے جنگلی کتے پکڑ لائے۔ انھوں نے ان کتوں کے لیے دلآویز گھروندے بنائے، کھانے پینے کا سامان فراہم کیا اور انھیں ایک نئی زندگی کی تربیت دینا شروع کی۔ آوارہ مزاج اور آزاد منش کتوں کو بہت مشکل ہوئی۔ انھیں گھروندوں کے نقش و نگار کی مطلق قدر نہ تھی۔ اندر گھس بیٹھنے سے انھیں وحشت ہوتی تھی۔ کھانے پینے کی نفیس اور لذیذ چیزیں کبھی کبھی پسند آتی تھیں مگر ہاضمہ قبول نہ کرتا تھا۔ آزادانہ بھاگ دوڑ کے مواقع محدود ہو گئے تھے۔ بھونکنے بلکہ غرانے تک کے ضابطے مقرر کر دیے گئے تھے۔
کئی برس کی سرتوڑ محنت کے بعد مہذب انسان جنگلی کتوں کو کچھ نہ کچھ تہذیب سکھانے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ مگر اس دوران میں کئی کتے مرے، بعض بھاگ نکلے، زیادہ تر بوڑھے ہو گئے اور کچھ نے انسانوں کو بھی اسپتال کی راہ دکھائی۔ ایک مدت اور گزری۔ کتوں کی نئی نسلیں بہت بہتر ہو گئیں۔ لیکن یہ بہتر کا لفظ عام ہونے کے باوجود خاصا عجیب و غریب ہے۔ اس بات پر اتفاق نہیں ہو سکتا کہ اس کا ٹھیک ٹھیک مطلب کیا ہے۔ کیا وہ کتے بہتر ہیں جو کم بھونکتے ہیں؟ یا وہ جنھیں فیکٹری کے بسکٹ ہضم ہو جاتے ہیں؟ یا وہ بہتر ہیں جو بات مانتے ہیں؟ یا پھر جن کے بال لمبے اور ملائم ہیں؟ یا جو آرام سے پٹا پہن لیتے ہیں؟
ان سب خوبیوں والے کتے رفتہ رفتہ الگ الگ ہو گئے۔ دیکھنے کے لائق الگ، رکھوالی کرنے والے الگ، اچھے ہاضمے والے الگ، رعب ڈالنے والے الگ۔ ترقی جاری رہی۔ پھر یوں ہوا کہ پٹے بھی الگ الگ طرح کے بننے لگے۔ بسکٹ نئے نئے آنے لگے۔ گھروندے طرح طرح کے دستیاب ہو گئے۔ صابن چمپی اور دوا دارو وغیرہ پر بھی ارتقا کی پچکاریاں پڑیں۔ لہٰذا ہر گروہ کے اندر گروہ ہو گئے۔ مخملیں پٹے والے جدا، چمڑے والے جدا، لوہے والے جدا، پلاسٹک والے جدا۔
ترقی جاری رہی۔ پٹوں کے جدید تر نمونے سامنے آئے۔ اس میں یہ خوبی، اس میں وہ خوبی۔ اس کی کمی اس نے دور کر دی، اس کا عیب اس نے رفع کر دیا۔ ہوتے ہوتے رفتار اتنی تیز ہوئی کہ روزانہ نئے پٹے جاری ہونے لگے۔ پرانوں سے بہت بہتر۔ بہتر؟ خیر، یہ خاصا عجیب و غریب لفظ ہے۔ اگر آپ ترقی کی اس بھاگم بھاگ میں بھول نہ گئے ہوں تو ہم اس پر بات کر چکے ہیں۔ ہم اتفاق نہیں کر سکیں گے کہ اس کا ٹھیک ٹھیک مطلب کیا ہے۔
بہرحال، ہمارے کتے ترقی میں شریک ہو کر جیے، مرے، کھایا، پیا، بھاگے، دوڑے، سوئے، جاگے اور شاید ہنسے اور روئے بھی۔ اگرچہ یہ سب کام ویرانے میں بھی ہو سکتے ہیں مگر وہاں وہ ترقی نہ تھی جس سے انسان نے انھیں متعارف کروایا۔ روز روز نئے پٹے ویرانے میں کہاں سے آئیں؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ویرانے میں پٹے ہوتے ہی نہیں۔ نہ نئے نہ پرانے۔ اگر کوئی چیتھڑا کسی کے گلے کا ہار ہونے بھی لگے تو وہ ویرانہ اور ویرانے کا آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ لیکن شہر میں زیادہ بھونکنا اچھی بات نہیں۔ اور پٹے پر بھونکنا تو باقاعدہ بدتہذیبی اور جنگلی پن کی نشانی ہے۔
ہم اتفاق کریں گے کہ ترقی تو کتوں نے خاصی کی۔ بس ذرا وہ جنگلی پن چھوڑنا پڑا جسے ویرانوں میں آزادی سمجھا جاتا ہے۔