بغاوت سے سفاہت تک

اردو نثر

مجھے ڈر تو لگ رہا ہے کہ بدتمیزی کا یہ سلسلہ میری ذات کو بھی محیط نہ ہو جائے مگر پھر بھی بعض دوستوں کے خیال سے یہ معاملہ زیرِ بحث لانا چاہتا ہوں۔ اللہ کرے سلمان حیدر صاحب یہ اقتباس دیکھ ہی نہ پائیں!

محولہ مراسلے میں صاحب نے نعیم الحق صاحب کے انتقال کو بہانہ بنا کر ایک پھلجڑی چھوڑی ہے۔ ادب کے طلبہ اول تو طنز اور مزاح کا فرق یہاں بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ مزاح ہر وہ بات، کام یا کیفیت ہے جو ہنسی پیدا کرے۔ طنز اس سے ایک درجہ آگے ہے۔ اس میں مزاح کو مقصد برآری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا مزاح ہنسانا ہے اور طنز ہنسانے کے بہانے متوجہ اور متاثر کرنا ہے۔ مزاح کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس طنز تیر کی مانند ایک معین ہدف پر گرتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کے وہ حلقے بھی جو غیر روایتی افکار رکھتے ہیں معاصر روایت کے کم از کم ایک پہلو سے جان نہیں چھڑوا سکے۔ اور وہ پہلو ہے انتہا پسندی۔ مذہبی و غیر مذہبی دونوں حلقے شدت میں انتہا کو چھو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برابر کی غیر معقولیت دونوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔

مقتبس مراسلے کے تبصرے ملاحظہ فرمائیے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ سلمان حیدر صاحب اپنے بعض احباب کے اعتراض کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ پھلجڑی اس وقت نہایت نامناسب تھی۔ ممکن ہے کوئی اسے عناد، بغض یا ہٹ دھرمی پر محمول کرے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ وہ واقعی معاملے کی حساسیت کو نہیں سمجھ پا رہے۔

واقعہ یہ ہے کہ انتہا پسندی شدتِ جذبات سے پیدا ہوتی ہے۔ اور شدتِ جذبات میں عقل کا ماؤف ہو جانا ایسا امر ہے کہ فلسفی اور ملا ہر دو پر ایک ہی طرح وارد ہوتا ہے۔ اب سلمان حیدر صاحب کا مسئلہ بالکل وہی ہے جو ایک کٹھ ملا کا ہوتا ہے۔ ایک چیز وہ نہیں دیکھ پا رہے اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتے۔ اور وہ چیز ہے تناظر۔ پس منظر۔ ماحول۔

جدید دنیا کے بعض خطوں میں جب مذہبی روایت معطل ہوئی تو اس کی کمی پوری کرنے کے لیے ثقافتی روایت کو ترقی دی گئی۔ مختلف علاقوں کے تہذیبی اثاثے جو اس سے پیشتر مذہبی اشرافیہ کے تکبر کی بھینٹ چڑھے رہے تھے نمایاں ہو کر سامنے آنے لگے۔ تہوار، ملبوسات، مشروبات و ماکولات، عادات و اطوار، ادبیات و فنونِ لطیفہ۔ ان سب کا احترام ثقافت کے نام پر پہلے سے بدرجہا زیادہ ہو گیا۔ اشتراکیت وغیرہ نے تو ثقافت کو باقاعدہ مذہب کے متبادل کے طور پر استعمال کیا۔

سلمان حیدر صاحب پاکستان کی مذہبی اور سیاسی روایت سے بیزاری میں آزاد ہیں۔ تاہم یہ انھوں نے سراسر اپنا نقصان کیا ہے کہ اس آزادی کی راہ پر اتنا دور نکل گئے ہیں کہ ثقافتی معمولات (norms) بھی ان کی نظر سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ ہماری ہی نہیں دنیا بھر کی انسانی تہذیبوں میں موت فوت کے موقع پر اس قسم کے اشقلے چھوڑنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ روایت سے بغاوت آپ کا حق سہی مگر فطرت سے بغاوت بڑی ٹیڑھی کھیر ہے۔ آدمی معاشرتی حیوان ہے اور موت کا حادثہ معاشرے کا سب سے بڑا معمول ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ ایسے موقع کی حساسیت کا خیال ایک باشعور آدمی کے دل سے محو ہو جائے۔ مگر جیسا میں نے اوپر عرض کیا، اس قسم کا ہر رویہ ایک نہیں تو دوسری طرح کی انتہا پسندی کا شاخسانہ ہوتا ہے جو عقل کو ماؤف کر دیتی ہے۔

فحوائے کلام یہ ہے کہ صاحب اپنے باغیانہ جذبات کی رو میں ایک سانحے کے ثقافتی تناظر کو فراموش کر بیٹھے ہیں اور ہماری دانست میں اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اپنے ہم خیال اور ہم درد معترضین کا اعتراض سمجھنے سے بھی معذور ہو گئے ہیں۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ