قدرِ جوہر شاہ داند یا بداند جوہری

فارسی ضرب المثل (کہاوت)

قدرِ جوہر شاہ داند یا بداند جوہری

قدرِ گوہر شاہ داند یا بداند جوہری

قدرِ زر زردار داند یا بداند جوہری

ترجمہ

موتی کی قیمت یا بادشاہ جانتا ہے یا سنار۔

مطلب

قیمتی چیزوں کی قدر وہی کر سکتے ہیں جو ان کا علم رکھتے ہوں۔ جہلا اور عوام سے کسی اچھی چیز کی قدر کی توقع رکھنا عبث ہے۔ یہ بات یوں بیان کی گئی ہے کہ قیمتی پتھر کی پہچان یا تو بادشاہ کر سکتا ہے جسے اس سے واسطہ رہتا ہے یا پھر سنار جو ان کا کاروبار کرتا ہے۔ عام لوگوں سے یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ جواہر کی کماحقہٗ قدر شناسی کریں گے۔ ایک پنجابی ضرب المثل میں کہا گیا ہے کہ کمھار کو لعل ملا تھا تو اس نے اسے اپنے گدھے کے گلے میں باندھ دیا تھا۔

پس منظر

یہ کہاوت تین مختلف صورتوں میں رائج ہے جو اوپر لکھ دی گئی ہیں۔ گوہر قیمتی پتھر کو کہتے ہیں۔ اسی کا معرب یعنی عربی شکل جوہر ہے۔

زر سونے کو کہتے ہیں اور زردار سونے کے مالک یعنی امیر آدمی کو۔

استعمال

وہاں کہتے ہیں جہاںکسی قدر پہچاننے والے کو داد دینا یا پھر کسی چیز کی ناقدری کا افسوس کرنا مقصود ہو۔

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب ہیں۔

تمام ضرب الامثال
یہ کہاوت (ضرب المثل) اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟