یہ ترقی ہوئی اور اس کی یہ روداد ہوئی

یہ ترقی ہوئی اور اس کی یہ روداد ہوئی
آدمی قید ہوا زندگی آزاد ہوئی

شہر بے روح ہوئے روحِ چمن شاد ہوئی
فطرت اجڑی ہوئی دنیا میں پھر آباد ہوئی

اپنی اوقات نہ انسان کو جب یاد ہوئی
چار و ناچار وبا آئی اور استاد ہوئی

اس قدر ناک میں فطرت کے نہ کرنا تھا دم
کہ وہ جو صید تھی انسان کی صیاد ہوئی

کوئی دن حسنِ تمدن کو جو ڈالی ہے لگام
ایک دنیا ہے کہ گویا نئی ایجاد ہوئی

للہ الحمد کہ ناسور کا منہ بند ہوا
ختم تہذیب کے امراض کی میعاد ہوئی

نسلِ آدم کسی تقسیم پہ قانع ہی نہ تھی
ایسی ٹوٹی ہے کہ اب ٹوٹ کے افراد ہوئی

بوڑھی دنیا میں کوئی فتنہ کہاں تھا راحیلؔ
صحبتِ صالحِ آدم سے یہ اولاد ہوئی

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر ہیں۔

فہرستِ کلام
یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟