سانچ کو آنچ نہیں

کہاوت

ضرب الامثال

سانچ کو آنچ نہیں۔

सांच को आंच नहीं|

ترجمہ

سچ کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔

مطلب

سچائی ایسی چیز ہے کہ جھوٹ اس کا مقابلہ تو کر سکتا ہے مگر اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ سچائی چونکہ حق تعالیٰ کا ایک روپ ہے اس لیے اسے نقصان پہنچانا کسی کے بس کی بات نہیں۔

پس منظر

کہتے ہیں کہ ایک جولاہا بڑا سچا اور کھرا آدمی تھا۔ ایک ساہوکار نے اس سے کچھ شالیں خریدیں اور قیمت نہ دی۔ جولاہے نے پھر تقاضا کیا تو ساہوکار نے شالوں کو آگ لگ جانے کا بہانہ کر کے جان چھڑانا چاہی۔ جولاہے نے کہا، "ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی صادق کے کام کو آگ چھو بھی جائے۔” اور اپنے کاندھے سے شال اتار کر آگ پر رکھ دی۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ آگ نے واقعی شال پر کچھ اثر نہ کیا۔ وہاں سے یہ مثل مشہور ہوئی۔

سانچ لفظ سچ ہی کی ایک شکل ہے۔ آنچ آگ کی گرمی یا تپش کو کہتے ہیں۔

استعمال

وہاں کہتے ہیں جہاں یہ ثابت ہو جائے یا کرنا مقصود ہو کہ سچائی اور حقیقت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ ضرب المثل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ