نکاتِ عروضی و لسانی و ادبی

اردو عروض

ذیل کے خیالات کا اظہار میں مختلف مواقع پر عروض، شعر و ادب اور نقد و نظر سے متعلق گفتگوؤں میں کرتا رہا ہوں۔ آج کل بھی ان نکات کو طلبہ کے ذہن نشین کروانے کی ضرورت حسبِ سابق محسوس ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا کچھ کاوش کے بعد جس قدر ممکن اور میسر ہو سکا انھیں یکجا کر کے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان میں سے اکثر نکات باقاعدہ اور جداگانہ مضامین کے متقاضی ہیں جو اللہ نے چاہا تو اپنے وقت پر لکھے جائیں گے۔ فی الحال انھیں محض جہاں ہے جیسا ہے اور جتنا ہے کے اصول پر شائع کیا جا رہا ہے اور بوقتِ ضرورت یہیں پر ترمیم و اضافہ کر دیا جائے گا۔

مقدرات

مقدر اس فقرے یا الفاظ کے مجموعے کو کہتے ہیں جسے شاعر نے شعر میں نظم نہ کیا ہو مگر کسی قدر تامل سے یا معاً وہ ٹکڑا قاری کی نگاہ میں روشن ہو جائے۔ اس کی بہترین مثال غالبؔ کا یہ شعر ہے:

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں !​

شعر کی نثر یوں ہو گی:

ان کی بزم میں مجھ تک دورِ جام کب آتا تھا؟ (لیکن اب جو آیا ہے تو کہیں) ساقی نے شراب میں کچھ ملا نہ دیا ہو۔

قوسین میں موجود فقرہ مقدر ہے۔ مگر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شعر میں ایسے قرائن موجود ہیں جو اس کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ یہ بلاغت کی انتہا ہے۔ مگر دوسری انتہا پر تعقیدِ معنوی موجود ہے جس میں مقدرات اس حد تک غالب آ جاتے ہیں کہ شعر سمجھنا محال ہو جاتا ہے۔ بدنامِ زمانہ مثال ملاحظہ ہو:

مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا​

یعنی شہد کی مکھی باغ میں جائے گی تو پھولوں کا رس چوسے گی۔ پھر اسے جمع کرنے کے لیے موم کا چھتا بنائے گی۔ چھتے سے لوگ موم حاصل کر کے شمع بنائیں گے۔ شمع جلے گی تو اس پر پروانہ نازل ہو گا اور جل کر مر جائے گا۔ لہٰذا پروانے کی مرگِ اندوہ ناک کا سدِ باب کیا جائے اور شہد کی مکھی کو باغ میں گھسنے ہی نہ دیا جائے۔ یہ قبیح ترین تعقید ہے جس میں محذوفات کی بھرمار ہے۔

یونہی کا وزن

یونہی کے بارے میں افصح ہے کہ اسے وتدِ مقرون باندھا جائے۔ یعنی فَعَل کے وزن پر۔ اسے فعلن کے وزن پر باندھنا معیوب نہیں تو مستحسن بھی نہیں۔ لیکن اس صورت میں اسے ملا کر لکھنا درست نہ ہو گا۔ یوں ہی (یعنی الگ الگ) لکھنا چاہیے۔

تسبیغ و اذالہ کا محل

سالم بحر میں تسبیغ یا اذالہ وارد نہیں ہو سکتے۔ بالفاظِ دیگر یہ زحافات کسی دوسرے زحاف کی موجودگی ہی میں آئیں گے۔

سالم بحر کی صورت میں مصرعِ اولیٰ اگر ایک حرفِ موقوف پر ختم ہو رہا ہو تو ناپسندیدہ ہے۔ یہ رعایت جدید شعرا نے زبردستی لے لی ہے اور اس طرح کے مصرعے کہا کرتے ہیں مگر انھوں نے اور بھی بہت سی ناروا رعایتیں لے رکھی ہیں۔ بہتر ہے کہ ان کا تتبع نہ کیا جائے۔

ہونا (فعل) کے صیغوں اور  زمانوں کا عروضی استعمال

مجھے بعض لوگوں سے ایک نکتہ معلوم ہوا تھا جو عموماً عروض کی کتب میں مندرج نہیں۔ مگر اساتذہ کے کلام کے جائزے سے اس کے التزام کا ثبوت ملتا ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ مصرع کے شروع میں ہے اور اس کی تمام گردانوں مثلاً ہیں، تھا، تھیں، تھے وغیرہ کو حرفِ واحد کے وزن پر باندھنے سے احتراز کیا جانا چاہیے۔ یعنی اگر کسی بحر میں مصرع ہے سے شروع کرنے کے لیے اس کی یائے لین ساقط کرنی پڑے تو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح تھا، تھے تھیں وغیرہ کے حروفِ علت کا اسقاط بھی آغازِ مصرع میں اور بالخصوص غزل میں ناروا ہے کیونکہ یہ شعر کی قرأت اور روانی پر نہایت برا اثر ڈالتا ہے۔

ہوئے، ہوئیں وغیرہ کا معاملہ البتہ جدا ہے۔ ان کی یے کے صدر و ابتدا میں اسقاط کے نظائر موجود ہیں:

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

(غالبؔ)

ہائے ہوز اور ہائے مخلوط

ہائے ہوز عربی اور فارسی میں ھ اور ہ دونوں طرح لکھی جاتی ہے۔ مگر اردو میں اس کا اطلاق صرف ہ پر ہوتا ہے۔ دو چشمی ھ کو اردو میں ہائے ہوز نہیں ہائے مخلوط کہا جاتا ہے اور اس کا جواز ثقیل ہندی آوازوں از قسم بھ، تھ، چھ وغیرہ کے املا میں ہے۔ باقی جگہوں پر اس کا لکھنا ظلم ہے۔

لفظ وحشی کا اردو تلفظ

اردو تلفظ کا قاعدہ ہے کہ اگر ہائے ہوز یا حطی سے قبل کوئی حرف مفتوح آئے تو اسے یائے لین کی سی آواز میں پڑھا جاتا ہے۔ یعنی بحر، سحر، رحمت، زحمت، مہمان، پہچان، رہنا، قہر وغیرہ کو اہلِ عرب کی طرح خالص فتحہ کے ساتھ ادا کرنے کی بجائے تھوڑا ترچھا کر کے بولا جاتا ہے۔ یہ آواز یائے لینہ کی طرح کسرے کے قریب ضرور ہے مگر اسے مکسور خیال کرنا ویسی ہی غلطی ہے جیسے طَیر، پَیر وغیرہ میں حرفِ ماقبلِ یا پر کسرے کا قیاس کر لیا جائے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اہلِ پنجاب کے ہاں ایسی آوازیں زیادہ تر خالص مفتوح ملتی ہیں۔ مثلاً رَحمت کو اکثر رَ(ے)ح مَت کی بجائے صاف صاف رَ(ا)ح مَت بولا جاتا ہے۔ مگر ان کا لہجہ اردو میں معتبر نہیں۔

نیز گو کہ لغت میں اعراب اس فرق کی تصریح نہیں کرتے اور ان حروف کو مفتوح قرار دینے ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے مگر اردو دنیا کے طول و عرض میں فصیح لہجہ یہی ہے۔ اگر آپ غور کریں تو وحشی کے تلفظ میں وَح کی آواز میں وہی ترچھا پن پائیں گے جو یائے لین سے مخصوص ہے۔ ہاں، اگر یائے مجہول کا رنگ پیدا ہو جائے تو البتہ فصاحت سے ساقط اور قابلِ گرفت ہے۔

کتاب پڑھنی چاہیے یا پڑھنا چاہیے؟

روایتی طور پر اہلِ لکھنؤ فعل کو ہمیشہ مذکر لاتے ہیں اور اہلِ دہلی ایسے جملوں میں مفعول کی جنس کا لحاظ فصیح سمجھتے ہیں۔ بالترتیب امراؤ جان ادا اور اردوئے معلیٰ میں ہر دو کے نظائر بکثرت مل جائیں گے۔

ایک مطلع میں ایطا کا مسئلہ

میں دیوانہ ہوں دیوانے کا کیا ہے
خود تماشا بن گیا ہے

ہم اپنی داستاں خود کیوں سنائیں
جو ظالم پوچھتا ہے جانتا ہے

ایطا مطلع کے قوافی میں حروف کے اس اعادے کا نام ہے جس سے روی کا اختلاف مترشح ہوتا ہو یا جس کا التزام بعد کے اشعار میں نہ کیا جائے۔ اس مطلع پر یہ شبہ گزرنا عین جائز ہے۔ مگر ایسا ہے نہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ‘گیا’ میں یا اپنی اصل حالت میں پورے اعلان کے ساتھ وارد ہوئی ہے جبکہ ‘کیا’ کی یا مخلوط ہے۔ یعنی کاف کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اس کی مثال دوچشمی ھ کی سی ہے جو اپنا الگ وجود نہیں رکھتی لہٰذا وزن میں محسوب نہیں۔ بلکہ وزن میں شمار ہونے کا سوال تو پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ ایسی ھ یا یے اپنے ماقبل حرف کے ساتھ مل کر گویا ایک نئے حرف کو جنم دے دیتی ہے جو بہرصورت وزن میں گنا جاتا ہے۔

جس طرح کا اور کھا کا وزن ایک ہے اسی طرح کیا (استفہامیہ) اور کا کا وزن بھی ایک ہی ہے۔ اس نقطۂِ نگاہ سے دیکھا جائے تو کیا کی یے گویا آئی ہی نہیں بلکہ کاف اور یے کی ایک مخلوط آواز پیدا ہوئی ہے جس کا گیا کی یے کے مقابل آنا ایطا کے دائرے سے خارج ہے۔

اہلِ فارس گاف کو کافِ فارسی اور چ کو جیمِ فارسی وغیرہ کہتے ہیں۔ ان کے مخارج نہایت قریب قریب ہیں مگر یہ درحقیقت الگ الگ آوازیں ہیں۔ اردو میں یائے مخلوط، ہائے مخلوط اور رائے مخلوط وغیرہ کی دوسرے حروف سے مل کر الگ آوازیں تو پیدا ہو گئی ہیں مگر ان کے لیے الگ حروف تشکیل دینے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ اس مطلع سے متعلق اشکال کی جڑ میں ہمارے نظامِ تہجی کی یہی خامی کارفرما ہے۔

گاہے گاہے اور گاہے بگاہے

گاہ کو تعمیم کے لیے گاہے کر لیا جاتا ہے۔ فارسی میں اس قسم کی یا کا لاحقہ کوئی کا معنیٰ پیدا کرتا ہے۔ مثلاً شخص کا مطلب فرد اور شخصے کا مطلب کوئی فرد۔ اس طرح گاہے کا مطلب ہوا کوئی لمحہ۔ گاہے گاہے کا مطلب ہوا کسی کسی لمحے یعنی کبھی کبھی۔

گاہے بہ گاہے کا مفہوم بنظرِ دقت دیکھا جائے تو قدرے مختلف ہے مگر یہ ترکیب غلط حتیٰ کہ غیرفصیح بھی ہرگز نہیں۔ بہ یہاں تکرار اور تسلسل کے مضمرات رکھتا ہے۔ اس طرح گاہے بہ گاہے کا مطلب تقریباً اکثر و بیشتر ہو گا۔ یعنی جو وقوعہ گاہے بہ گاہے ہو گا وہ اس کی بہ نسبت زیادہ کثیر الوقوع (frequent) اور مسلسل (continuous) ہو گا جو گاہے گاہے ہوتا ہے۔

اسقاطِ حروف اور چھوٹی بحریں

چھوٹی بحر تبھی خوب صورت لگتی ہے جب اس میں اسقاطِ حروف کم سے کم ہو۔

اور کا عروضی وزن

قاعدہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ اور کا لفظ اگر حرفِ عطف (ایسا حرف جو دو کلموں یا جملوں کو جوڑتا ہے) کے طور پر آئے تو اسے سببِ خفیف (فع) اور وتدِ مفروق (فاع) دونوں کے وزن پر باندھا جا سکتا ہے۔

مثال دیکھیے:

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

(فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)

ادب ہے اور یہی کش مکش تو کیا کیجے
حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو؟

(مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن)​

تقطیع کریں گے تو معلوم ہو گا کہ پہلے شعر کے مصرعِ ثانی میں حرفِ عطف کو سببِ خفیف کے وزن پر باندھا گیا ہے اور دوسرے شعر کے دونوں مصرعوں میں وتدِ مفروق کے وزن پر۔ دونوں طرح درست ہے۔

لیکن اگر "اور” بمعنیٰ مزید یا مختلف آئے یا اس قسم کی دلالتیں رکھتا ہو تو لازم ہے کہ اسے وتدِ مفروق کے وزن پر باندھا جائے۔ اساتذہ کے ہاں تو خیر اس کا التزام رہا ہی ہے مگر مستند معاصر شعرا نے بھی اس روایت کا کماحقہٗ لحاظ کیا ہے۔ لہٰذا اس کی رعایت نہ کرنے کو عیب گننا چاہیے۔

مثال ملاحظہ ہو:

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور

(مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل/فعولن)​

مصرعِ اولیٰ میں اور کا لفظ مزید کے معنیٰ میں ہے اور مصرعِ ثانی میں مختلف کے معنیٰ میں۔ دونوں جگہ اس کا وزن وتدِ مفروق یعنی فاع ہی کا ہے۔

ادبی تنقید کی تخلیقی حیثیت

ہماری رائے میں ادبی تنقید اور ادب کا کم و بیش وہی تعلق ہے جو فلسفے اور زندگی کا ہے۔ یعنی اول الذکر مظاہر موخر الذکر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اب اگر کوئی کہے کہ فلسفہ فی ذاتہٖ زندگی ہے تو یہ بات مجازاً تو درست ہو سکتی ہے کہ فلسفے کی اہمیت سے صرفِ نظر ممکن نہیں۔ مگر ٹھیٹھ منطقی اعتبار سے یہ دعویٰ قابلِ گرفت ہے۔ اسی طرح تنقید کو تخلیق قرار دینے کا معاملہ بھی ہے۔ لغوی، عملی اور نظری اعتبار سے تنقید اور تخلیق میں بعدِ قطبین ہے۔ مگر خوش بیانی کی حد تک کوئی انھیں متحد الاصل قرار دیتا ہے تو اس میں حرج نہیں۔

تاثرات اور فن

تاثرات ہر فن کار پر مرتب ضرور ہوتے ہیں مگر ان کا من و عن اظہار لازم نہیں۔ مغرب کے کلاسیک فن پاروں کا غالب حصہ اس لحاظ سے اتنا بےچہرہ ہے کہ مبینہ طور پر تاثریت یا تاثر پذیری کی تحریک رومانویت کی طرح اسی کے (یعنی کلاسیک کے) ردِ عمل میں پیدا ہوئی۔

اردو الفاظ کی تشکیل و ترویج

ویب گاہ کا لفظ نہایت سبک اور خوب صورت ہے۔ میں نے غالباً یہ کہیں پڑھا تھا اور اس کے بعد اردو میں حتیٰ المقدور اسے برتنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ آج ایک اور قضیے میں لفظ بلاگ (Blog) کے مناسب اردو متبادل کی تلاش ہوئی مگر بوجوہ اسے جوں کا توں لکھ دیا۔

زبانیں زیادہ تر نامیاتی طریق پر خود بخود نمو پاتی اور مردہ ہوتی ہیں۔ مگر اہلِ زبان کا کردار اس ضمن میں کلی طور پر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مثلاً انگریزی کی موجودہ صورت اور قوتِ اظہار و ابلاغ میں ایک بہت بڑا کردار ان انگریزی گوؤں کا ہے جو شعوری طور پر اس کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ انھی مصلحین کا ایک طبقہ وہ ہے جو جدید ضروریات کے موافق رنگی برنگی تراکیب (Portmanteaus) وضع کرتا رہتا ہے۔

ویب گاہ کا لفظ اسی قسم کی ایک ترکیب ہے جس میں انگریزی (web) اور فارسی (گاہ) مادوں کو مدغم کیا گیا ہے۔ ٹھیٹھ اصولی لحاظ سے تو یہ ناجائز ہے مگر یہاں ایسا سلیقہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی بھونڈا پن یا بدصورتی پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک نہایت خوب صورت اور شیریں کلمہ اہلِ اردو کو نصیب ہو گیا ہے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اردو والے اپنی زبان کے لیے اسی روش پر مزید کاوشیں کریں اور ایک دوسرے کی رائے اور مشاورت سے نامانوس بدیسی الفاظ کے اچھے اچھے متبادلات تراشیں۔ یہ البتہ ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ جب ایک لفظ کی صورت پر مشاورت انجام کو پہنچ جائے تو یہ بھی ہماری ہی ذمہ داری ہو گی کہ اس لفظ کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لائیں تاکہ یہ مساعی محض کھیل کود اور دماغ سوزی کی حد تک نہ رہیں۔ الفاظ سے تو لغتیں بھری پڑی ہیں مگر ان کا رواج اور شیوع ہی دراصل زبان کو زندہ رکھتا ہے۔

عروض کا اطلاقی پہلو

سید قدرت نقوی صاحب کی ایک بات بڑی دیر سے میری سمجھ میں آئی مگر جب آئی تو حضرتِ داغؔ کی طرح بیٹھ ہی گئی۔ موصوف نے فرمایا تھا کہ عروض اور دیگر نظام ہائے آہنگ کا بنیادی فرق یہ ہے کہ عروض اطلاقی اور انطباقی ہے جبکہ پنگل اور پراسڈی (prosody) وغیرہ محض نظری اور وجدانی پیمانے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو، اور تاریخی حوالوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ، خلیل بصری رحمۃ اللہ علیہ کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ موصوف نے افاعیل کی صورت میں ہمیں ٹھوس، ریاضیاتی اور تقریباً ماورائے خطا ترازو مہیا کر دیے ہیں۔ دیگر معروف نظام ہائے آہنگ میں وجدان اور موزونئِ طبع پر انحصار کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ مگر افاعیل کو مستحضر کر کے چھ سال کا بے سرا بچہ بھی موزوں کلمات لکھنے پر قادر ہو سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عروض کی یہی اطلاقی اور انطباقی خوبی ایسی ہے جس کا فائدہ اٹھا کر اہلِ اردو عروض ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ورنہ کہاں کمپیوٹر اور کہاں اوزانِ شعر؟

پھر سونے پہ سہاگا یہ کہ خلیل نے افاعیل کو آزاد نہیں رہنے دیا کہ کوئی بھی حسبِ آہنگ ان کی صورت طے کر لے بلکہ بحور اور زحافات کی گراریوں کا ایک پورا نظام قائم کر دیا تاکہ ضرورت بھی کسی قاعدے سے پوری ہو۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ علومِ اسلامیہ کی باقی بوقلمونیاں تو ایک طرف رہیں، عروض پر اگر غور کیا جائے تو یہ علم تنہا ہی مسلمانوں کی جدتِ طبع، اصول پسندی اور سلامت روی کو ثابت کرنے کو کافی ہے۔

جہاں تک جائز و ناجائز کے اصولوں کے تعین کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں عروض کو بہت سی اصلاح (reformation) کی ضرورت ہے۔ اہلِ عرب کے لیے تو یہ کافی ہے کہ تشکیل انھی کی خاطر پایا تھا۔ مگر ہمارے ہاں اس کا اطلاق بعض جگہوں پر ٹھیک نہیں ہو پاتا۔ اس سلسلے میں کام کی ضرورت ہے مگر میری پرزور سفارش ہے کہ جہاں تک ممکن ہو یہ کام عربی عروض کے نظامِ کار (framework) کی حدود میں رہتے ہوئے کیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمیں عربی عروض کے بنیادی سانچے سے دور جانے کی قطعاً ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم سے پہلے ایرانی یہ کام بطریقِ احسن کر چکے ہیں۔ ازروئے فطرت نقاش پر لازم ہے کہ نقشِ ثانی اول سے بہتر ہو!

ادب اور سچ

ادب کے سلسلے میں یہ ایک کھلا راز ہے کہ لکھنے والے کو ذاتی طور پر ہی نہیں، معاشرے کی سطح پر بھی سچا ہونا چاہیے۔ اسی وجہ سے لوگ منٹو کو اشفاق احمد سے بڑا لکھاری جانتے ہیں۔ ورنہ اشفاق صاحب کی تحریروں کا سا تقدس منٹو سے بےحیا میں کہاں؟ مگر منٹو خود بھی سچ کہتا تھا اور معاشرے کی سطح پر بھی اس کی باتیں سچ ہی تھیں۔ اشفاق احمد مرحوم شاید خود بھی اپنے قد سے بڑی باتیں کرتے تھے اور معاشرتی رویوں کی سطح پر تو ان کی تحریریں سفید نہیں تو گلابی جھوٹ ضرور تھیں۔

فن کار اپنے عقائد کی سطح پر مومن نہیں فلسفی ہوتا ہے۔ وہ کسی طے شدہ نظریے کی عینک لگا کر معاشرے کو نہیں دیکھتا بلکہ ننگی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے اس کا رنگ جانچتا ہے۔ مگر معاصر ادبا کی اکثریت نے تو بہت موٹی عینک چڑھا رکھی ہے۔ اس میں سے نظر آنے والے بہت کم رنگ اصلی ہیں۔

اردو کی دیگر زبانوں سے اثر‌پذیری

زبان کا کسی دوسری زبان سے متاثر ہونا دو واضح اسالیب پر ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ اثر پزیر زبان ذخیرہءِ الفاظ، محاورات، اور اسلوبِ کلام وغیرہ میں اثر قبول کرے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اثر انداز زبان اثر پزیر زبان کی گرامر اور صوتیات میں تبدیلی پیدا کرے۔ مقدم الذکر نسبتاً سطحی ہے اور لسانیاتی اعتبار سے بالعموم کوئی غیر معمولی اہمیت نہیں رکھتی۔ جہاں بھی دو متغائر لسانی گروہوں کو کسی قسم کا تعامل درپیش ہوتا ہے یہ صورت در آتی ہے۔ جبکہ موخر الذکر صورت میں اثرات نہایت گہرے اور دیر پا ہوتے ہیں۔ گرامر اور صوتیات کی تبدیلی صرف ان زبانوں کا معاملہ ہوتا ہے جو اپنی بلوغت کو پہنچنے سے قبل ہی دیگر ترقی یافتہ زبانوں سے متعامل ہو جائیں۔

اردو کی گرامر اور صوتیات سنسکرت، فارسی، پنجابی وغیرہ سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔ یہ تمام السنہ باہم دگر متعلق ہیں اور آریائی خاندان سے ہیں۔ اردو لسانیات کا ایک سطحی جائزہ بھی اس حقیقت کے انکشاف کے لیے کافی ہے کہ سامی زبانیں اس کی بنیادی ساخت پر ہرگز اثر انداز نہیں ہو سکیں۔ یہ خیال کہ فارسی عربی سے متاثر ہوئی، ہمارے مقدمات میں صرف اول الذکر صورت میں معنیٰ رکھتا ہے۔ ورنہ عربی نے اپنے طویل تعلق میں بھی ہرگز فارسی گرامر اور صوتیات وغیرہ کو کسی قابلِ ذکر طریق پر متاثر نہیں کیا۔

رہ گئی بات اردو اور انگریزی کی، تو صاحب اردو اس دور سے گزر چکی جب اس کی بنیادی ساخت طے پا رہی تھی۔ اب اس میں کوئی گہرا اثر تو انگریزی نہیں پیدا کر سکتی مگر الفاظ اور طرزِ کلام وغیرہ متاثر ہوئے ہیں۔ اور ان حالات میں گو کہ زبان کو ایک گہرا دھچکا لگا ہے، مگر یہ صورت عبوری ہے۔ زبانیں صدیوں میں صورت پزیر ہوتی ہیں۔ اور اردو جیسی وسیع المشرب اور متواضع زبانوں کو تو شاید اور بھی زیادہ وقت لگنا چاہیے کیونکہ یہ خارجی اثرات سے اس قدر اغماض نہیں کر سکتیں جتنا دوسری زبانیں کرتی ہیں۔

آج کی اردو کا اصل المیہ وہی ہے جو دانتے سے قبل اطالیہ کی زبان کا تھا۔ ادب اور اشرافیہ کا ابلاغی واسطہ لاطینی تھی اور عوام کا اطالوی۔ مگر دانتے نے اطالوی کو اس قاعدے سے برتا کہ لاطینی کا زوال آمادہ اقتدار بالکل ختم ہو گیا۔ معاصر اردو ادب کی زبان عوام کی زبان سے متغائر ہے اور اشرافیہ اور تعلیم یافتہ طبقے کی ان دونوں سے۔ میں آج تک فیصلہ نہیں کر پایا کہ عوام زیادہ سوقیانہ ہیں یا ادب زیادہ پر تکلف ہے یا نئے پڑھے لکھے انگریزی گو زیادہ علم دوست ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اردو بھی دانتے جیسے کسی بطلِ جلیل کی منتظر ہے جو نہ صرف اردو میں ابلاغ کو ہم جنس اور زور آور کرے بلکہ اس کی موجودہ بیماری کے پس منظر میں موجود ثقافتی بدآہنگیوں کا بھی مداوا کرے!

قوم اور قومیت

سوال:

کیا ترکیب درست ہے؟

عشق میں نے لکھ ڈالا قومیت کے خانے میں
عامر امیر کی عمدہ غزل ہے۔

قومیت کے حساب سے "عاشق” یا "قوم عاشقان میں سے ہونا” قومیت ہوگی یا پھر لفظ "عشق” ہی مناسب ہے؟

جواب:

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس پورے مصرع میں ہمیں کوئی ترکیب نظر نہیں آئی۔ ترکیب سے مراد ہمارے ہاں عموماً الفاظ کا وہ مجموعہ ہوتا ہے جو باہم‌دگر فارسی عطف یا اضافت سے مربوط ہو۔ مثلاً شب‌و‌روز، من‌و‌تو، شور‌و‌شغب وغیرہ مرکبِ عطفی کی مثالیں ہیں اور دردِ‌دل، حسنِ‌جاناں، غمِ‌روزگار وغیرہ مرکباتِ‌اضافی ہیں۔ آپ کا سوال مصرعِ‌زیرِ‌غور میں عاشق یا عشق کی مناسبت سے متعلق ہے۔ یہ میری ناقص رائے میں تراکیب نہیں محض کلمات ہیں۔ یعنی با‌معنیٰ الفاظ۔

اب آتے ہیں سوال کی جانب۔ قوم اور قومیت کا بنیادی فرق یہ ہے کہ قوم افراد کے گروہ کا نام ہے جب‌کہ قومیت اس کیفیت یا حالت کا نام ہے جس میں افراد قوم کی حیثیت سے موجود ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص لوہار قوم کا فرد ہو سکتا ہے۔ مگر اس کی قومیت کو لوہار کہنا مناسب نہ ہو گا۔ اس کی بجائے اسے لوہاری کہنا چاہیے۔ گڑبڑ یوں پیدا ہوتی ہے کہ اس قسم کے الفاظ اردو میں محض قومیت کے لیے استعمال میں نہیں آتے بلکہ پیشے کے لیے بھی مستعمل ہیں۔ یعنی لوہاری سے مراد لوہار کا پیشہ بھی ہو سکتا ہے اور قومیت بھی۔ زیادہ معروف پیشے کا مفہوم ہے۔

اسی طرح فرض کیجیے ہم درد‌مندوں کی بات کر رہے ہیں۔ درد‌مند لوگ ایک قوم کہلا سکتے ہیں۔ مگر ان کی قومیت درد‌مند نہیں بلکہ درد‌مندی ہونی چاہیے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ قومیت ایک مجرد تصور ہے جب‌کہ قوم ایک جیتا‌جاگتا وجود رکھتی ہے۔ درد‌مند اور لوہار مجرد نہیں ہوتے مگر درد‌مندی اور لوہاری مجرد ہیں۔ لہٰذا قومیت کے مقابل انھی کو لکھا جانا چاہیے۔

اس بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ شاعر نے قومیت کے خانے میں جو عاشق کی بجائے عشق لکھنے کا ذکر کیا ہے تو یہ بالکل درست ہے۔ عاشق لکھنا تب ٹھیک کہلاتا جب قوم کا خانہ مذکور ہوتا نہ کہ قومیت کا۔ آپ کو غالباً یہ مسئلہ اس وجہ سے درپیش ہوا ہے کہ عشق معروف معنوں میں ایک کیفیت یا جذبے کا نام ہے۔ مگر خود ہی سوچیے کہ عاشقوں کی قوم میں وہ جو ایک کیفیت یا حالت قدرِ‌مشترک کے طور پر موجود ہے جس کے طفیل وہ ایک قوم بنتے ہیں، اسے عشق یا عاشقی وغیرہ کے سوا اور کیا نام دینا چاہیے؟

عامر امیر صاحب کو ہو سکے تو داد پہنچا دیجیے گا اس چست اور فصیح مصرع پر۔ ہمیں ان کا جس قدر کلام ابھی ابھی میسر آیا ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر شاعر کی زندگی کا کامیاب ترین مصرع ہو گا۔

قافیے اور ردیف کا انتخاب

میں ذاتی طور پر تنگ قافیے سے جتنا گھبراتا ہوں اتنا مشکل سے مشکل ردیف سے دق نہیں ہوتا۔ قافیہ میری رائے میں ایسا ہونا چاہیے کہ آپ سیکڑوں اشعار بھی کہنا چاہیں تو بغیر تکرار کے کہہ جائیں۔ میرا تمام نوآموزوں بلکہ پختہ کار شعرا کو بھی یہی مشورہ ہے کہ قافیہ اچھا چنیں۔ اس سے شعر کہنے والے کو بھی مزہ آتا ہے اور سننے والے کو بھی۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے عروض فہم۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

متفرق عروضی اصطلاحات

تنبیہ