میرے طبیب کی قضا میرے سرھانے آ گئی
چارہ گرانِ عشق کی عقل ٹھکانے آ گئی
رات کی خیمہ گاہ میں شمع جلانے آ گئی
آ گئی مہرباں کی یاد آگ لگانے آ گئی
بندہ نواز کیا کروں مجھ کو تو خود نہیں خبر
فرش میں عرش کی کشش کیسے نجانے آ گئی
جس کے وجود کا پتا موت کو بھی نہ مل سکا
اس کی گلی میں زندگی شور مچانے آ گئی
خاک ہوا تو دیکھیے خاک پہ کیا کرم ہوا
کوچۂِ یار کی ہوا مجھ کو اڑانے آ گئی
موجِ وصال کی قسم اوجِ خیال کی قسم
ایک بہار عشق پر آ کے نہ جانے آ گئی
4 خیالات ”میرے طبیب کی قضا میرے سرھانے آ گئی“ پر
خاک ہوا تو دیکھیے، خاک پہ فضل کیا ہوا
کوچۂِ یار کی ہوا مجھ کو اڑانے آ گئی
واہ بھئی واہ۔کیا خوب اشعار ہیں۔کاسیکل شعراء کا رنگ ہے۔
دعاؤں بھری داد۔
دعاؤں بھرا شکریہ۔
خاک ہوا تو دیکھیے، خاک پہ فضل کیا ہوا
کوچۂِ یار کی ہوا مجھ کو اڑانے آ گئی
واہ بھئی واہ۔کیا خوب اشعار ہیں۔کاسیکل شعراء کا رنگ ہے۔
دعاؤں بھری داد۔
مرحبا مرحبا
راحیل بھائی!