مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

اعتراف اور محبت

انشائیہ

29 ستمبر 2021ء

بہت بار ہوتا ہے کہ ہم کوئی خوبی یا صفت اپنے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں کر پاتے۔ اس کا ایک سادہ سا حل میری سمجھ میں آیا ہے اور وہ بڑا دلچسپ ہے۔ یعنی یہ کہ ان لوگوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا جائے جن میں وہ خوبی پائی جاتی ہے۔ انھیں تسلیم کیا جائے۔ ان سے محبت کی جائے۔ آپ کو شاید یہ بات عجیب لگے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ ان لوگوں سے حسد کرتے ہیں جن کی طرح وہ بننا چاہتے ہیں۔ حسد اصل میں محسود کی شخصیت اور کمال کا انکار ہے۔ ہم انھیں نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔ ان سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں جن سے ہمیں سیکھنا چاہیے تھا۔ انھیں دیکھنا ہی نہیں چاہتے جو در حقیقت ہمیں اچھے لگتے ہیں۔

کوئی اچھائی اپنے اندر پیدا کرنے کی خواہش ہے تو اس کا راستہ اچھے لوگوں کی محبت اور صحبت ہے۔ اگر انھیں رد کر دیں گے تو اس اچھائی کو رد کر دیں گے جس کی تڑپ ہمارے دل میں انھیں دیکھ کر پیدا ہوئی تھی۔ اور یہ بڑی نادانی کی بات ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ اگر کسی شخص میں کوئی خوبی پائی جاتی ہےتو وہ گویا اس خوبی کا چراغ ہے۔ اس سے منہ پھیر لیا تو پھر ہمیں اندھیروں پر قناعت کرنی پڑ سکتی ہے۔ روشنی کی آرزو آرزو ہی رہ جائے گی۔

غالبؔ کا ایک شعر ہے:

ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
رنگ کھلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے

یعنی محبوب کسی پر عاشق ہوا اور اس عشق نے اس کے حسن اور نزاکت میں اضافہ کر دیا۔ اب عشق کی کٹھنائیاں دیکھ کر اس کا رنگ اڑنے لگا ہے اور جتنا اڑتا جاتا ہے اتنا کھلتا جاتا ہے۔ یہ محض شاعرانہ نازک خیالی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حسن سے عشق آدمی کو حسین بنا دیتا ہے۔ بد صورتیوں پر توجہ آدمی میں بد صورتی پیدا کرتی ہے۔ نطشے جرمنی کا ایک مشہور فلسفی گزرا ہے۔ اس کی نفسیاتی بصیرت ایسی بے نظیر ہے کہ سگمنڈ فرائڈ جیسا ثقہ ماہرِ نفسیات رشک کرتا تھا۔ نطشے کا قول ہے کہ عفریتوں سے لڑو تو دھیان رکھو کہ کہیں خود عفریت نہ بن جاؤ۔ کیونکہ اگر تم پاتال میں جھانکو گے تو پاتال تم میں جھانکے گا۔

انجیلِ لوقا میں سیدنا مسیح علیہ السلام سے مروی ہے کہ

تیرے بدن کا چراغ تیری آنکھ ہے۔ جب تیری آنکھ درُست ہے تو تیرا سارا بدن بھی رَوشن ہے اور جب خراب ہے تو تیرا بدن بھی تارِیک ہے۔

نگاہ اچھی چیزوں پر پڑتی ہے تو بدن اور روح پر بھی اچھائی کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حسن، خیر اور صداقت آفتاب کی مانند ہیں جس کی کرنیں آنکھ کی کھڑکی سے ہماری ذات کے نہاں خانوں تک پہنچتی ہیں اور انھیں منور کر دیتی ہیں۔

پس اپنے اندر حسن پیدا کرنے کے لیے لازم ہے کہ حسن والوں سے محبت کی جائے۔ اور اپنے اندر کی بد صورتی کو نمایاں کرنے کا خیال ہو تو دوسروں کی بد صورتیوں پر توجہ مرکوز کی جائے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشنمبروں کی دوڑ
اگلی نگارشادیب اور ناقدNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

بچہ بچہ

25 اپریل 2021ء

ملّا اور گالی

2 دسمبر 2017ء

زبان کی سند

20 اپریل 2020ء

۔۔۔نکلا چوہا

2 مئی 2021ء

بنانے والا

17 مئی 2018ء

تازہ ترین

انفرادیت کی تلاش

30 جنوری 2026ء

صحبتِ بد

10 جنوری 2026ء

رعایت

24 دسمبر 2025ء

کتے

20 دسمبر 2025ء

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔