جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا سب بھلا ہوا

غزل

جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا سب بھلا ہوا
بس عشق تیرے ساتھ ہوا یہ برا ہوا
ۢ
بے چارگی کی شکل بنا چپ کھڑا رہا
جب بھی کسی نظر سے مرا سامنا ہوا

عزت بھی دیکھ لو مری مٹی میں مل گئی
شرمندگی سے سر بھی ہے میرا جھکا ہوا

آغاز زندگی کا بھی تجھ سے کیا گیا
اور تیری ہی کمی سے مرا خاتمہ ہوا

میری غزل کے بعد تھے سینوں پہ سب کے ہاتھ
جیسے غزل غزل نہ ہوئی مرثیہ ہوا

باتوں کو چھوڑ چائے کو ٹیبل پہ رکھ ذرا
اتنا بتا جدائی میں کیا کیا نیا ہوا

کشتی کو نیلے پانی کی تیزی سے پیار ہے
کشتی جو ڈوب جائے برا نا خدا ہوا

شاعر تھا دہرؔ شاعری بھی چھین لی گئی
یا رب یہ دکھ نصیب میں کیونکر لکھا ہوا

اظہارِ برأت

معاصرین کی نگارشات کی اردو گاہ پر اشاعت کسی قسم کی توثیق کے مترادف نہیں۔ تمام مصنفین اپنے خیالات اور پیرایۂ اظہار کے خود ذمہ دار ہیں۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ