مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

چائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں!

کہانی

20 نومبر 2016ء

 

ایک جوگی تھا۔

نروان کی کشش کشاں کشاں اسے زندگی کی رنگینیوں سے دور تبت کے پہاڑوں میں کھینچ لے گئی اور وہ ایک کھوہ میں آسن جما کر براجمان ہو گیا۔

مدتیں بیت گئیں۔ جوگی تپسیا میں گم رہا۔

سورج اور چاند کے پھیرے لگتے رہے۔ بہاروں کی دھومیں، خزاؤں کی سرسراہٹیں، گرمیوں کے ڈھنڈورے اور سردیوں کے سناٹے آتے جاتے رہے۔ پہاڑوں پر سبزہ اترتا چڑھتا رہا۔ برفیں جمتی پگھلتی رہیں۔ چرند پرندے مرتے اور پیدا ہوتے رہے۔ منظر بدلتے رہے۔ مہینے، سال، دہائیاں، صدیاں، شاید زمانے گزر گئے۔

جوگی کا دھیان نہ ٹوٹا۔

محبت بڑی شے ہے۔ بڑی طاقت ہے۔ بشر کو فوق البشر بنا دیتی ہے۔ پھر انسانوں کی محبت سے بھی بڑی طاقت نظریات کی محبت ہے۔ لیلیٰ بنت مہدی کی محبت مجنوں بناتی ہے مگر لیلائے خیال کا عشق انسان کو منصور بنا دیتا ہے۔ ہمارا تپسوی دوسری راہ کا مسافر تھا۔ عرفان کا دیوانہ، شعور کا شیدائی، بیداری کا پیمبر۔

وقت گزرتا رہا۔ کھوہ کے باہر کی دنیا منقلب ہو گئی۔ کھوہ کے اندر جوگی وہی کا وہی رہا۔ کھوہ بھی وہی کی وہی رہی۔ اسے اکتاہٹ کا اثر کہیے، تھکن کا نتیجہ، فطرت کا اقتضا یا پھر تقدیر کا کھیل۔ ایک انہونی اس جمود کی کوکھ میں کلبلانے لگی۔

جوگی پر اونگھ طاری ہونے لگی۔ بالکل غیرمحسوس انداز میں اس کے دھیان میں بے دھیانی سرایت کرنے لگی۔ انہونی سر نکال رہی تھی۔

ایک دن بیٹھے بیٹھے جوگی کی آنکھیں مند گئیں۔

قیامت ایک لمحے میں آئی اور اسی میں گزر بھی گئی۔ حاصل سے لاحاصل کا سفر سچ مچ پلک جھپکنے ہی میں طے ہو گیا۔ وہ سنبھلا مگر تب تک چڑیاں کھیت چگ گئی تھیں۔ تپسیا اکارت چلی گئی تھی۔ مدتوں کی محنت غارت ہو چکی تھی۔ دھیان ٹوٹ گیا تھا۔

تپسوی جلال میں آ گیا۔ کہتے ہیں کہ اس نے اپنی پلکوں میں انگلیاں ڈالیں اور انھیں نوچ کر سامنے پھینک دیا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ اس کے بعد اس نے پھر سے آسن جمایا اور عبادت میں محو ہو گیا۔

اب آنکھیں کیسے مند سکتی تھیں؟ اس شیش محل کے جلووں کو کون روک سکتا ہے جس کے دروازے ہی اکھیڑ ڈالے گئے ہوں؟ خون جوگی کی آنکھوں سے رس رس کر کھوہ کی مٹی میں جذب ہوتا رہا۔ کون جانتا تھا کہ تبھی ایک اور انہونی نے جنم لے لیا تھا۔

دن گزرتے گئے۔

ایک کونپل نے زمین سے سر نکالا اور رفتہ رفتہ نمو پاتی گئی۔ اٹھتی اٹھتی ایک دن وہ جوگی کی آنکھوں کے مقابل جا پہنچی۔ دھیان پھر ٹوٹ گیا۔ جوگی نے حیرت سے اس نونہال پر نگاہ کی جو ان پتھروں کا سینہ چیر کر نکل آیا تھا۔ کیا یہ کوئی نیا امتحان تھا؟

نہیں۔ حکایت کہتی ہے کہ یہ دراصل ایک بہت بڑا انعام تھا۔ جو گی کے لیے ہی نہیں، تمام انسانوں کے لیے۔۔۔

اس پودے کو دنیا آج "چائے” کے نام سے جانتی ہے۔ بیداری، شعور اور آگہی کا استعارہ!

ہائے، کم بخت! تو نے پی ہی نہیں​

(ماخوذ)

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشمحبت فاتحِ عالم
اگلی نگارشہر تان ہے دیپک!Next

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

2 خیالات ”چائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں!“ پر

  1. فرحان محمد خان
    28 اکتوبر 2017ء بوقت 12:13

    چائے تو مجھے جنت کا پھل لگتی ہے

    جواب دیں
  2. شکیبؔ احمد
    14 جولائی 2020ء بوقت 20:47

    توبہ ہے!

    جواب دیں

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

جہاں بجتی ہے شہنائی

24 فروری 2016ء

عشق اور پرستش

19 جون 2021ء

پرستش سے خدائی تک

27 فروری 2018ء

تلاشِ مسرت

16 فروری 2017ء

ہیر نہ آکھو کوئی

28 مارچ 2016ء

تازہ ترین

انفرادیت کی تلاش

30 جنوری 2026ء

صحبتِ بد

10 جنوری 2026ء

رعایت

24 دسمبر 2025ء

کتے

20 دسمبر 2025ء

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔