خدا سے شکوہ نہیں ناخدا سے کیا ہو گا

اردو شاعری

خدا سے شکوہ نہیں ناخدا سے کیا ہو گا
دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کیا ہو گا

میں پوچھتا ہوں مسیحا دوا سے کیا ہو گا
مریضِ شوق کو حاصل شفا سے کیا ہو گا

گدا کا سوچ کہ مطلب صدا سے کیا ہو گا
غزل کا نکتہ سمجھ واہ وا سے کیا ہو گا

جو مر مٹے انھیں کیا جاودانیوں سے کام
فنا ہی ہو گئے جب تو بقا سے کیا ہو گا

زمانہ آدمی اور آدمی زمانہ ہے
پلک جھپکنے میں دیکھو گے کیا سے کیا ہو گا

جو عشق کرتے ہیں کمبخت ڈھیٹ ہوتے ہیں
وفا سے کام لیا کر جفا سے کیا ہو گا

ستم کیا تو ستمگر نے حق ادا نہ کیا
یہ کام غیر کا تھا آشنا سے کیا ہو گا

چمن میں کتنی خزاؤں کو اس نے روک لیا
قفس میں بلبلِ رنگیں نوا سے کیا ہو گا

حضور مَیں نہیں مجھ میں حضور آپ ہیں آپ
نہ پوچھیے کہ شکستِ انا سے کیا ہو گا

گزر چکا ہے نصیحت کا وقت اے ناصح
دیے نے آگ لگا دی ہوا سے کیا ہو گا

یہاں وفا سے کوئی معجزہ نہیں ہوتا
بھلا بتائیے ترکِ وفا سے کیا ہو گا

جنوں کے دشت وہی پائمال ہیں راحیلؔ
خرد کا ڈھونگ بڑا ارتقا سے کیا ہو گا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ