دامن کا تار تار پھر آغوش ہو چکا

1 جون 2018 ء

دامن کا تار تار پھر آغوش ہو چکا
اے دوست کل کا دکھ تو فراموش ہو چکا

شب مدتِ مدید کو ہونے لگی محیط
دل عرصۂِ دراز سے خاموش ہو چکا

پوشاک حادثات کے ہاتھوں ادھڑ گئی
سایہ فلک کی آنکھ میں روپوش ہو چکا

اب رحم کھا کہ دل بڑی نازک سی چیز ہے
بس کر کہ امتحانِ تن و توش ہو چکا

جی جانتا ہوں آپ سراپا کلام ہیں
فرمائیے کہ میں ہمہ تن گوش ہو چکا

تہمت لبوں پہ آئے تو کیا چارہ ساقیا
ورنہ تو انگ انگ بلا نوش ہو چکا

یہ عقدہ ہائے عشق مبارک ہوں عشق کو
راحیلؔ کا دماغ تو کم کوش ہو چکا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!