فصل بوئے کوئی اٹھائے کوئی

اردو شاعری

فصل بوئے کوئی اٹھائے کوئی
دیکھنا دل نہ لوٹ پائے کوئی

ہم بھی کیا عشق کا مذاق اڑائیں
خوں رلائے تو کیوں رلائے کوئی

کوئی کیوں دل نکال لے جائے
اس کی آنکھیں نکال لائے کوئی

عشق کی توڑپھوڑ کے صدقے
دل میں ورنہ کہاں سمائے کوئی

روگ کے راگ ہیں سبھی ورنہ
یونہی کرتا ہے ہائے ہائے کوئی

رہ گیا ہوں کسی گلی میں میں
دے کے آواز مجھ کو آئے کوئی

دشت میں کیا نہیں ہے جو ہے وہاں
گھر میں کیوں جا کے بیٹھ جائے کوئی

کیا بلا چیز ہے زباں‌بندی
مجھ سے پوچھے مجھے بتائے کوئی

شعر معجز کلام ہے راحیلؔ
سنے ہر کوئی کہہ نہ پائے کوئی

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ