زمانہ ایک طرف اور جناب ایک طرف

اردو شاعری

زمانہ ایک طرف اور جناب ایک طرف
یہی ہے حشر تو رکھیے حساب ایک طرف

ادھر بھی ذوقِ تماشا ادھر بھی حسرتِ دید
اٹھی وہ آنکھ جو سرکا نقاب ایک طرف

سنا ہے نام بھی اس کا بہشت رکھا ہے
سنا ہے شیخ نے رکھ دی شراب ایک طرف

گلی وہی ہے مگر پھر پھرا کے پہنچے گا
گیا ہے آج بھی خانہ خراب ایک طرف

قیامت ایک ہی سکہ ہے جس کے دو رخ ہیں
نقاب ایک طرف اور شباب ایک طرف

سماج آنکھ تو رکھتا ہے دل نہیں رکھتا
حضور اٹھائیے ہو کر حجاب ایک طرف

نماز پڑھ گئے ہیں میکدے میں شاید شیخ
پڑے تھے سجدے میں عزت مآب ایک طرف

وہ پوچھتے ہیں کہ راحیلؔ کون صاحب ہیں
سوال ایک طرف ہر جواب ایک طرف

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ