ضرب الامثال

کہاوتیں

تعارف

کہاوت یا ضرب المثل کیا ہے؟

کوئی فقرہ، جملہ، شعر یا مصرع جو زندگی کے بارے میں کسی خاص اصول، حقیقت یا رویے کو جامع اور بلیغ طور پر بیان کرے اور عوام و خواص اسے ترجمانی کے لیے استعمال کرنے لگیں، کہاوت کہلاتا ہے۔ اسی کو عربی میں ضرب المثل کہا جاتا ہے۔ کہاوتیں یا ضرب الامثال کسی معاشرے کے مخصوص تمدن اور ثقافت کی عکاسی کرتی ہیں اور عام طور پر نہایت دانشمندانہ اور حکیمانہ نکات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ کسی قوم کی ضرب الامثال سے اس کے رویوں، لوک دانش اور رہن سہن کے بارے میں خاصی معلومات اخذ کی جا سکتی ہیں۔

ضرب الامثال کی کیفیت و نوعیت

ضرب الامثال ایسے فقرات پر مشتمل ہو سکتی ہیں جن میں نحوی اعتبار سے بات مکمل نہ ہوئی ہو۔ جیسے

بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ

ٹھیک ٹھاک اور کسے ہوئے جملوں کی صورت میں بھی ملتی ہیں۔ جیسے

نیا نوکر ہرن مارتا ہے۔

اکثر موزوں اور مترنم مصرعوں کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ جیسے

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

بعض اوقات پورے پورے اشعار بھی ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ مثلاً

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

کہاوتوں کے معانی

کہاوتیں اور ضرب الامثال کسی معاشرے کی تہذیب، ثقافت، جغرافیے، مذہب اور نظریات وغیرہ میں رچی ہوئی حکمت پر مشتمل ہوتی ہیں اور اکثر ان کے معانی اور دلالتیں اس تمدن کے مخصوص تناظر ہی میں پوری طرح روشن ہوتے ہیں۔ مثلاً ذیل کی کہاوت پر غور کیجیے:

غریب کی جورو سب کی بھابی

اگر اس ضرب المثل کا لغوی ترجمہ کسی جدید یورپی زبان میں کر دیا جائے تو اغلب ہے کہ لوگ اس میں پنہاں نکتے تک نہیں پہنچ سکیں گے۔برِ صغیر پاک و ہند میں عام طور پر بھابی ماں کا سا درجہ رکھتی ہے اور اس رتبے کی قیمت کے طور پر ماں ہی کی طرح دیوروں، جیٹھوں اور نندوں کی خدمت میں جتی رہتی ہے۔ غریب کی بیوی کا سب کی بھابی ہونا دراصل اس حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ کمزور آدمی بیچارہ عمر بھر بیگاروں ہی میں الجھا رہ جاتا ہے۔ اہلِ یورپ کے ہاں بھابی اس قسم کا معاشرتی کردار نہیں رکھتی لہٰذا وہ اس کہاوت کا ویسا لطف شاید کبھی نہ اٹھا سکیں جیسا ایک دیسی آدمی اٹھاتا ہے۔

تاہم ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ بسا اوقات کہاوتوں کا طرزِ ادا ایسا ہوتا ہے جو عالگیر طور پر قابلِ فہم ہو سکتا ہے۔ یعنی تمدنی اور ثقافتی جھلک تو اس میں کم و بیش ہو سکتی ہے مگر نکتے کا اظہار ایسے پیرائے میں ہو جاتا ہے جو کسی تمدن یا ثقافت سے خاص نہیں۔ اس صورت میں معانی کسی تشریح کے محتاج نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر عربی کا ایک مقولہ ہے۔

الاقارب کالعقارب۔

یعنی قرابت دار بچھوؤں کی طرح ہوتے ہیں۔ رشتہ داروں کا باہمی حسد اور شماتت تمام انسانی معاشروں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس ضرب المثل میں اقارب اور عقارب کی رعایت گو ایسی ہے کہ اس کا مزہ زبان فہم لوگوں ہی کو آ سکتا ہے مگر مفہوم اس طور پر ادا کیا گیا ہے کہ ترجمے کے بعد سمجھنا کسی کے لیے دشوار نہیں۔

اردو گاہ کا شعبۂِ ضرب الامثال

ہم نے انٹرنیٹ کے اردو خوان، اردو گو اور اردو دان طبقے کے لیے اردو، ہندی، فارسی اور عربی ضرب الامثال کو مع ترجمہ و تشریح اور مطالب و معانی پیش کرنے کا قصد کیا ہے۔ اردو گاہ کے باقی سلسلوں کی طرح یہ بھی ایک انفرادی کاوش ہے اور امکان ہے کہ افتاں و خیزاں کچھ نہ کچھ کام رفتہ رفتہ ہوتا ہی رہے گا۔

ضرب الامثال کے شعبے کے بالائی لائحہ (menu) میں مختلف کارآمد روابط دیے گئے ہیں۔ آپ زبانوں کے اعتبار سے کہاوتوں کی درجہ بندی دیکھ سکتے ہیں اور نثری جملوں یا فقرات اور ضرب المثل اشعار و مصاریع کی تقسیم کے لحاظ سے بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ شروع میں تمام ضرب الامثال کی ایک مکمل فہرست کا ربط بھی موجود ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو ادیب۔

یہ صفحہ اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email