مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

دلیلِ آفتاب

انشائیہ

15 دسمبر 2017ء

خدا نے ہر عروج کو زوال رکھا ہے مگر ہر زوال کے نصیب میں عروج نہیں لکھا۔ کتنے چڑھے مگر اتر گئے۔ کتنے گرے، کچھ اٹھے، بہت رزقِ خاک ہو گئے۔

مجھے کم از کم اپنے محدود مطالعے کی بنیاد پر ایک بھی قوم ایسی نظر نہیں آئی جس نے اپنے عروج کو ماضی سے کشید کیا ہو۔ وہ لوگ بھی میں نے دیکھے ہیں جو حال کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ مگر ان لوگوں کو تو پوری دنیا نے دیکھا ہے جنھوں نے ماضی اور حال دونوں سے بےنیاز ہو کر مستقبل پر کمند پھینکی۔ میں نے قرآن، عہدنامۂ جدید اور عہدنامۂِ عتیق کو عصرِ نو کے ایک نیم‌خواندہ مگر دردمند انسان کی حیثیت سے پڑھا ہے۔ ان تینوں کی بنیادی تعلیم مجھے یہ معلوم ہوئی ہے کہ اپنے ماضی سے جان چھڑاؤ۔ اپنے باپ دادا کے من‌گھڑت افسانوں سے نکل کر دیکھو کہ خدا اور اس کا نظام تم سے کیا تقاضا کر رہا ہے۔ آیاتِ تشریعی کی من‌چاہی تعبیروں سے حذر کرو اور اور آیاتِ تکوینی کی صورت میں چنگھاڑتے ہوئے خدا کے پیغام کو سنو۔

تاریخ کا مجھے علم نہیں۔ مگر جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں ایک بات سنتا آ رہا ہوں۔ وہ بات یہ ہے کہ مسلمان بے‌عمل ہو گئے ہیں۔ ہمارے زوال کا سبب ہماری بے‌عملی کے سوا کچھ نہیں۔ کچھ وقت اس بات پر یقین بھی رہا اور اپنے تئیں خود کو باعمل مسلمان بنانے کی کوشش بھی میں کرتا رہا۔ پھر کچھ سوالات کھڑے ہوئے۔ پھر بے‌راہروی پیدا ہوئی۔ پھر جوابات بھی ملنے لگے۔ میں واپس بھی پلٹ آیا۔ مگر بہت سے لوگ اب تک بھٹک رہے ہیں۔ میں آج انھیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں جو مجھے امتِ مرحوم کے زوال کے اصل سبب سے متعلق معلوم ہوئی۔

جھوٹ اور دجل و فریب کے پاس بہت حیلے سہی مگر سچ ایک اپنی ہی کشش اور جبروت رکھتا ہے۔ اس کے اسیر کسی اور پھندے میں گرفتار ہونے کے قابل کم ہی رہتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ خوش‌قسمتی سے کافی حد تک ہمارے سامنے ہے۔ ہم منہ موڑنا بھی چاہیں تو نہیں موڑ سکتے۔ نبیِ کریمﷺ نے جب تبلیغ کا آغاز فرمایا اور تشنگانِ حق ان کے ہم‌نوا ہونے لگے تو بے‌عملی کا واویلا کہیں سنائی نہیں دیا۔ کہیں بھی نہیں۔ لوگ آتے تھے۔ مسلمان ہوتے تھے۔ صعوبتیں برداشت کرتے تھے مگر دین کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔

قیصرِ روم نے ابو سفیان سے اپنے مشہور مکالمے میں پوچھا تھا کہ کوئی شخص محمدؐ کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس سے پھر بھی جاتا ہے؟ نفی میں جواب ملنے کے بعد اس نے یہ اصول بیان کیا تھا کہ حق کی حلاوت جسے نصیب ہو جائے وہ کبھی اس سے منحرف ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کی فراست نے اسی بنیاد پر اسے باور کروا دیا تھا کہ یہ لوگ حق پر ہیں اور عن‌قریب اس کی قوم پر غالب آ جائیں گے۔

کتنے لطف کی بات ہے!

آج مسلمانوں کی اکثریت کے پاس ان کے اسلاف کی دی ہوئی اپنی ریاستیں موجود ہیں۔ ان کے پاس کلی اور حتمی اختیارات موجود ہیں کہ وہ اسلام پر عمل کریں۔ ان کے علما اقبالؒ کے الفاظ میں لغت ہائے حجازی کے قارون ہیں جن کے پاس تاریخوں، تفسیروں، تعبیروں اور تاویلوں کے انبار موجود ہیں۔ ان کے پاس وہ عوام ہیں جو بظاہر دین کے نفاذ کے لیے پاگل ہوئے ہوئے ہیں۔ مسلمان دنیا میں دوسری مگر سب سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہوئی اکثریت ہیں۔

مگر دین پر عمل نہیں کر سکتے!

ہاہاہاہاہاہا۔ وہ کون سا سچ ہے جس پر عمل نہیں ہو سکتا؟ نبیِ کریمﷺ کا سچ تو ایسا نہ تھا۔یہ تو جھوٹ کی طے شدہ علامت ہے کہ اس کی کوئی عملی بنیاد نہیں ہوتی۔ سچ تو خود عمل کے لیے کھینچتا ہے۔ اتنی پرکشش چیز ہے کہ لوگ اس کے لیے ماریں کھاتے ہیں۔ مال لٹاتے ہیں۔ رسوا ہوتے ہیں۔ سولی چڑھ جاتے ہیں۔ مگر اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ وہ تو جھوٹ ہوتا ہے جس پر زبردستی عمل کرنا پڑتا ہے۔ بار بار زور لگانا پڑتا ہے۔ روز نئی دلیل گھڑنی پڑتی ہے۔ روز نیا بچاؤ کرنا پڑتا ہے۔ عمل پھر بھی نہیں ہو سکتا۔

جو آگ سے جل جائے وہ پھر ہوش میں کبھی بے‌سبب آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔ کیونکہ آگ کی جلن سچ ہے، حق ہے۔ اسے چاہ کر بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر کسی سے کہا جائے کہ مثلاً لنڈی کوتل میں چمگادڑ فارسی بولتے ہیں تو بڑی دقت ہو گی۔ آپ کو روز نئی شہادتیں لانی پڑیں گی۔ نئے دلائل تراشنے پڑیں گے۔ زبردستی ایک عقیدہ اور عقیدت ٹھونسنی پڑے گی۔ اختلاف کی اجازت اٹھانی پڑ جائے گی۔ رد کرنے والوں کو قتل کرنا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ نافرمانوں کے سدِ باب کے لیے لنڈی کوتل کے گرد فصیل قائم کر کے ناکے بھی لگانے پڑ جائیں۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے۔ اس کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ مگر ہوتا پھر بھی وہی ہے کہ جاء الحق و زہق الباطل۔

مسلمانوں کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہ اسلام پر عمل نہیں کرتے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس اسلام نہیں ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشحافظ
اگلی نگارشغلامستانNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

2 خیالات ”دلیلِ آفتاب“ پر

  1. ذوالقرنین
    17 دسمبر 2017ء بوقت 19:22

    بہت قیمتی بات کی ہے آپ نے. اس پر جلد یا بدیر کچھ عرض کروں گا.

    جواب دیں
  2. صوفیہ
    19 دسمبر 2017ء بوقت 08:34

    ایسے سیدھے سادے سے اصول جیسے سچ بولنا، دھوکے بازی سے بچنا، ایمانداری، دیانتداری وغیرہ کے لئے اسلام کی کون سی اصل شکل کی ہمیں ضرورت ہو سکتی ہے؟؟؟؟ پیچیدہ مسائل جن پر ناجانے کتنا اختلاف ہے ان پر تو انسان پریشان ہو سکتا ہے کہ معلوم نہیں کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ! لیکن ایسے چھوٹے چھوٹے بے ضرر اعمال کے لئے بھلا ہمیں کس قسم کی حجت کی ضرورت ہے؟ اگر ہم صرف سچ بولنے لگیں، دھوکہ دینے سے بچنے لگیں اور ایمانداری کو ہی اپنا لیں تو بحیثیت امت ہم واپس عروج حاصل کر لیں گے۔
    ہر بات اس وقت تک جھوٹی اور غلط لگتی ہے جب انسان خود دھڑلے سے جھوٹ بولتا ہو۔ اگر انسان خود سچا ہوگا اور اسے سچ کی واقعی جستجو ہوگی تو سچ خود اس کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایسے میں یقین کیجئے لنڈی کوتل کے چمگادڑوں کو تختہ مشق بنانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

    جواب دیں

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

موت

26 ستمبر 2017ء

مضمون، خیال اور معنیٰ

29 جون 2016ء

ادب، شعر اور نثر

31 جنوری 2017ء

مولا کے رنگ

25 دسمبر 2014ء

مباش منکرِ غالبؔ

17 جنوری 2019ء

تازہ ترین

انفرادیت کی تلاش

30 جنوری 2026ء

صحبتِ بد

10 جنوری 2026ء

رعایت

24 دسمبر 2025ء

کتے

20 دسمبر 2025ء

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔