رُکْن

اردو عروض

تعریف/مطلب/مفہوم/معنیٰ:

حروف کا وہ مجموعہ جو کسی بحر میں اکائی پیمانے کے طور پر استعمال ہو۔

مثال کے طور پر بحرِ خفیف مسدس مخبون محذوف میں تین ارکان ہیں:

فاعلاتن مفاعلن فعلت

بحرِ رجز مثمن سالم میں چار ارکان پائے جاتے ہیں:

مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن

اکائی پیمانے سے مراد یہ ہے کہ گو تمام بحر ہی وزن کا ایک پیمانہ ہوتی ہے مگر ہر بحر دراصل کئی چھوٹی منفرد اکائیوں سے مل کر بنتی ہے۔ یہی اکائیاں رکن کہلاتی ہیں۔ اردو میں مستعمل بحور میں عموماً دو یا اس سے زیادہ ارکان استعمال ہوتے ہیں جو مندرجہ بالا امثال سے واضح ہے کہ یکساں بھی ہو سکتے ہیں اور مختلف بھی۔

 

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے عروض فہم۔

یہ عروضی اصطلاح اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

متفرق عروضی اصطلاحات

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ