چشمِ ساقی ہے وہ خراب کہ بس

11 اگست 2017 ء

چشمِ ساقی ہے وہ خراب کہ بس
ابھی پی بھی نہ تھی شراب کہ بس

ادھر ان پر ہے وہ شباب کہ بس
ادھر اپنا ہے وہ حساب کہ بس

رہ گئی بے‌حجابی ایک طرف
آ گیا اس طرح حجاب کہ بس

آنکھوں آنکھوں میں پا گئے تعبیر
ایسے ایسے حسین خواب کہ بس

میری بانھوں کی وہ پکار کہ اور
ان کی سانسوں کا وہ خطاب کہ بس

یا الٰہی نزولِ شیخ کے بعد
اور بھی ہو گا احتساب کہ بس

جھومتا تھا ابھی سوال پہ عشق
عقل دے بھی گئی جواب کہ بس

ان کے آنسو ٹپکنے کی تھی دیر
یوں ہوا شہر آب آب کہ بس

صفحہ صفحہ الٹ کے کیا حاصل
خود ہی کہہ دے اگر کتاب کہ بس

بن کے معشوق حضرتِ راحیلؔ
اس قدر خوش ہیں آنجناب کہ بس

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ