یہ جو دل ہے ملال ہے اس میں

اردو شاعری

یہ جو دل ہے ملال ہے اس میں
ایک عالم کا حال ہے اس میں

پہلے دل میں لہو کی سرخی تھی
اب تمھارا خیال ہے اس میں

زندگی ایسے تھم نہیں سکتی
وقت کی کوئی چال ہے اس میں

ڈور سانسوں کی باندھنے والے
سانس لینا محال ہے اس میں

آپ کے حسن کو خدا رکھے
آپ کا کیا کمال ہے اس میں

ہم کو مرنے سے کوئی عار نہیں
ہجر کا احتمال ہے اس میں

کس نے تھوکا ہے ظرفِ ہستی پر
زندگی کا اگال ہے اس میں

ہاتھ سے کاسہ گر کے ٹوٹ گیا
کوئی بھاری سوال ہے اس میں

ہم بھی پھرتے ہیں دل لیے راحیلؔ
ایک شیشہ ہے بال ہے اس میں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ