تمام شہر سنے گا کہوں تو کس سے کہوں

تمام شہر سنے گا کہوں تو کس سے کہوں
ستم شعار کو اچھا کہوں تو کس سے کہوں

سبھی کی ہے یہی بپتا کہوں تو کس سے کہوں
سنوں تو کس کی خدایا کہوں تو کس سے کہوں

کرے گا کون مداوا کہوں تو کس سے کہوں
یہ دکھ نہ تجھ سے مسیحا کہوں تو کس سے کہوں

ہجوم دیکھ کے تنہائیوں سے دل نے کہا
ہر ایک شخص ہے تنہا کہوں تو کس سے کہوں

تمھی نہیں کہ کسی کے ہوئے نہ جیتے جی
یہاں ہے کون کسی کا کہوں تو کس سے کہوں

حقیقتوں ہی سے واقف نہیں ابھی دنیا
فسانہ ہائے تمنا کہوں تو کس سے کہوں

کچھ آ بھی جائے سمجھ میں تو اور مشکل ہے
سمجھ میں یہ نہیں آتا کہوں تو کس سے کہوں

حرم میں اب تو صنم بھی نہیں رہے راحیلؔ
ترا سلام اگر جا کہوں تو کس سے کہوں

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر ہیں۔

فہرستِ کلام
یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟