اے حسن مجھے تھام کہ برباد نہ ہوں میں

اردو شاعری

اے حسن مجھے تھام کہ برباد نہ ہوں میں
اللہ نہ کرے عشق سے بھی شاد نہ ہوں میں

ہو ہی نہیں سکتا کہ اسے یاد نہ ہوں میں
ایسا ہو تو ہر بند سے آزاد نہ ہوں میں

اپنے ہی کسی وہم کی ایجاد نہ ہوں میں
اے جوشِ سخن گنگ کی فریاد نہ ہوں میں

شاعر کا شعور اصل ہے ہر چھان پھٹک کی
نقاد نہ ہوں میں اگر استاد نہ ہوں میں

مت دیکھ کہ تو بندۂِ درگاہ کا ہے عشق
یہ سوچ ترا حسنِ خداداد نہ ہوں میں

وحشت کا وہ عالم ہے ترے شہر میں اب کے
شاید کسی ویرانے میں آباد نہ ہوں میں

ڈر اس سے کہ مجھ میں کوئی مجھ سے بھی سوا ہو
ممکن ہے کہ تعمیر ہوں بنیاد نہ ہوں میں

الہام کرے عشق تو الہام سراپا
ارشاد کرے عقل تو ارشاد نہ ہوں میں

محشر میں مجھے اذنِ سخن سوچ کے دیجو
اے کن فیکونی تری روداد نہ ہوں میں

کیا ہے اگر اس دور کا راحیلؔ نہ تھا وہ
کیا ہے اگر اس دور کا فرہاد نہ ہوں میں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ