دوست کا دل میں دم غنیمت ہے

30 جون 2019 ء

دوست کا دل میں دم غنیمت ہے
لوگ سمجھیں تو غم غنیمت ہے

عاشقی میں ستم غنیمت ہے
کعبے میں یہ صنم غنیمت ہے

یہ وجود و عدم غنیمت ہے
کچھ نہ ہو تو بھرم غنیمت ہے

یہ جو لکھتے ہیں ہم غنیمت ہے
سر کے ہوتے قلم غنیمت ہے

چھوڑیے مے حلال ہے کہ حرام
جو بھی ہے محترم غنیمت ہے

عقل نازک ہے ٹھوکروں کے لیے
عشق کا دم قدم غنیمت ہے

نہ سہی تو ترا خیال سہی
تو تو اس سے بھی کم غنیمت ہے

مسجدوں میں کہاں یہ محرابیں
تیرے ابرو کا خم غنیمت ہے

ایک زمزم بہت ہے صحرا کو
ہجر میں چشمِ نم غنیمت ہے

دوستوں نے نہیں کیا نہ سہی
دشمنوں کا کرم غنیمت ہے

تو نے کھائی نہیں وفا کی قسم
یہ بھی تیری قسم غنیمت ہے

ہم کہاں اور خدا کہاں راحیلؔ
ہمیں شیخِ حرم غنیمت ہے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ
عید مبارک - اردو گاہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!