کوثر نہ لنڈھا جائیں تو میخوار کہاں کے

18 جون 2018 ء

کوثر نہ لنڈھا جائیں تو میخوار کہاں کے
بھولے ہوئے ہیں آپ بھی سرکار کہاں کے

ہر صورتِ زیبا ہے شناسا سی شناسا
دیکھے ہوئے ہیں جانے یہ دلدار کہاں کے

ہر گام پہ آثار ہیں ہر موڑ پہ منزل
رستے ہیں یہ اے قافلہ سالار کہاں کے

سرکار کہاں اور کہاں دل کا خرابہ
مختار بنے بیٹھے ہیں ناچار کہاں کے

دیکھا ہے ترے دیدہ وروں کو شبِ دوراں
بےخواب سے بےخواب ہیں بیدار کہاں کے

توحید محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
اغیار کے ہوں یار تو پھر یار کہاں کے

راحیلؔ ہنر کا ہمیں دعویٰ نہیں لیکن
جو عشق میں کام آئیں وہ بیکار کہاں کے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!