قلعہ وہ کیا ہے ضرورت ہو جسے دربان کی

اردو شاعری

قلعہ وہ کیا ہے ضرورت ہو جسے دربان کی
وہ محبت خاک جو محتاج ہو پیمان کی

شیخ صاحب لطف تو جب ہے کہ اس کے سامنے
میں خدا لگتی کہوں تم بھی کہو ایمان کی

نام لیوا تو محبت کے بہت مل جائیں گے
اس سے پوچھو یوں نثار اس پر کسی نے جان کی

حسن غارت گر سہی دل کو مگر خوش کر گیا
عشق مشکل ہے پر اس نے زندگی آسان کی

تجھ سے پہلے لٹ چکا تھا وقت کے ہاتھوں بھی میں
زندگی ہی رہ گئی تھی سو وہ اب قربان کی

آنسوؤں سے انقلابوں کی امیدیں ہیں مجھے
کچھ جھلک دیکھی ہے میں نے قطرے میں طوفان کی

پہلے تو راحیلؔ صاحب دل پہ سب چوٹیں سہیں
پھر جتا کے قدر کھوئی آپ نے احسان کی

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ