مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

کون زنجیر توڑ سکتا ہے

نظمِ معریٰ

25 اگست 2014ء

(اگست ۲۰۱۴ میں وطنِ عزیز کی سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں لکھی گئی)

کون زنجیر توڑ سکتا ہے
کس میں ہمت ہے تم سے لڑنے کی
کس میں جرات ہے سر اٹھانے کی
کون باغی تمھاری ذات سے ہو
کس ستمگر کو جان پیاری نہیں
جان ہے تو جہان ہے پیارے
لوگ زندہ رہیں گے لالچ میں
کہ کسی روز وقت آئے گا
ایک لشکر مسرتوں کا لیے
اور تہِ تیغ کر کے رکھ دے گا
غم کی فوجوں کو قہر کے دَل کو
اور یہ بے نشان قیدی بھی
اسی جھولے میں چھوٹ جائیں گے
سلسلے دکھ کے ٹوٹ جائیں گے
تم مگر فکر مت کرو جاناں
یہ تو لالچ ہے زندہ رہنے کا
خواب ہے مردہ ظرف لوگوں کا
وقت مظلوم کا نہیں ہوتا
تم پریشان مت ہو جانِ جاں
تم سے منہ کون موڑ سکتا ہے
کون زنجیر توڑ سکتا ہے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

Prevپچھلا کلامالفت کے گنہگار تجھے یاد کریں ہیں
اگلا کلاماٹھ چلے ہاتھ لگاتے ہوئے سب کانوں کوNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو شاعری

راحیلؔ فاروق کی شاعری۔ غزلیات، رباعیات، آزاد، معریٰ اور پابند نظمیں، دوہے، قطعات۔۔۔ سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود!

آپ کے لیے

تجھے فرصت ہو جو منزل کے سوالوں سے کبھی

24 نومبر 2018ء

زمانہ ایک طرف اور جناب ایک طرف

4 اکتوبر 2020ء

کون سمجھے گا عاشقی کیا ہے

4 جنوری 2011ء

نیکی اور گناہ

16 دسمبر 2013ء

کوئی دن ہو گا کہ ہارے ہوئے لوٹ آئیں گے ہم

18 مارچ 2017ء

تازہ ترین

خوشامد

18 فروری 2026ء

اندھیر نگری کا حکم نامہ

14 فروری 2026ء

نیا سال مبارک

31 دسمبر 2025ء

یومِ استاد

5 اکتوبر 2025ء

آزادی

6 اگست 2025ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔