اے یادِ رفتگاں مجھے جینے کا چھوڑیو

اے یادِ رفتگاں مجھے جینے کا چھوڑیو
جو زخم کھائے ہیں انھیں سینے کا چھوڑیو

اپنی گلی میں دے کے ٹھکانا فقیر کو
مکے کا چھوڑیو نہ مدینے کا چھوڑیو

ساقی پلائیو تو نہ آنکھیں ملائیو
مجھ کو بچائیو مجھے پینے کا چھوڑیو

گر روئیو تو مجھ سے لپٹ کر نہ روئیو
دریا میں ڈالیو تو سفینے کا چھوڑیو

راحیلؔ دل بھی چھوڑ گیا اب تو اے خدا
اس حال میں نہ ہاتھ کمینے کا چھوڑیو

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر ہیں۔

فہرستِ کلام
یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

”اے یادِ رفتگاں مجھے جینے کا چھوڑیو“ پر 2 عدد تبصرے

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟