عشق اگر بار بار ہو جائے

7 اپریل 2021 ء

عشق اگر بار بار ہو جائے
حسن پروردگار ہو جائے

اے خدا تھوڑی آدمیت کھینچ
آدمی شاہکار ہو جائے

گل کا احسان ہے جو ہے ورنہ
خار گلشن میں خوار ہو جائے

موت کیا چیز ہے بتاؤں تمھیں
زندگی خود پہ بار ہو جائے

میں تجھے مڑ کے دیکھتا ہوں دوست
سامنے سے بھی وار ہو جائے

آج نشتر کو چھوڑ چارہ گر
ایک تیر اور پار ہو جائے

بے وفائی تو چھپ نہیں سکتی
بے وفا پردہ دار ہو جائے

بحث ہے اور اس آدمی سے ہے
جیت جاؤں تو ہار ہو جائے

اس کو کہتے ہیں دشمنی دل کی
دل کو دشمن سے پیار ہو جائے

اس کا راحیلؔ کوئی یار نہیں
جس کا وہ شخص یار ہو جائے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!