جذبے شکست پر بھی وہی ہیں سپاہ کے

اردو شاعری

جذبے شکست پر بھی وہی ہیں سپاہ کے
ہیں شاہ سے بھی آگے وفادار شاہ کے

نیت ثواب کی ہے ارادے گناہ کے
مسجد کو جا رہے ہیں طلب‌گار جاہ کے

شبنم شعاعِ مہر کی تنہا نہیں شکار
مارے ہوئے ہیں ہم بھی کسی کی نگاہ کے

انسان تھے بشر تھے میاں آدمی تھے تم
کیا کر دیا ہے ہم نے تمھیں چاہ چاہ کے

پورے تو بندگی کے تقاضے کہاں ہوئے
پتھر ہی گھِس چلے ہیں مری سجدہ گاہ کے

کیا داد دے سکیں گے تمھارے کلام کی
خود رفتگاں نہ آہ کے قائل نہ واہ کے

کلیاں تمھارے ذوق کو کافی نہ ہو سکیں
راحیلؔ چنتے آئے ہو کانٹے بھی راہ کے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ