مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

انسان کا تناسبِ اعضا

شذرہ

20 دسمبر 2016ء

 

صاحبو، قرآنِ حکیم میں ہمارا آپ کا رب فرماتا ہے:

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ

بے شک ہم نے انسان کو بہترین صورت (ساخت یا قاعدے) پر پیدا کیا۔

(سورۃ التین – آیت ۴)

آج کچھ چشم کشا اور بصیرت افروز حقائق ہماری نظر سے گزرے تو بے اختیار یہ آیت یاد آ گئی۔ معلوم ہوا کہ حضرتِ انسان نے یہ جو دھرتی کی کوکھ میں اترنے سے لے کر ستاروں پر کمند ڈالنے تک کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کا بہت زیادہ تعلق اس کے جسمانی تناسب سے بھی ہے۔ علما متفق ہیں کہ اعضا کے ایک غیرمعمولی توازن و توافق نے آدمی کو بہت کچھ ایسا کرنے کے قابل بنا دیا ہے جو دیگر حیوانات سے یکسر بعید ہے۔

اس تناسب کی مثالیں تو بہت سی ہوں گی اور بہت سے زاویہ ہائے نگاہ سے ہوں گی۔ مگر ہم بالفعل ان چیدہ چیدہ باتوں کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جنھوں نے آج ہمیں ورطۂِ حیرت میں ڈالا ہے۔ یاد رہے کہ ان میں سے اکثر پیمائشیں غالباً ایک عام صحت مند انسان کے لیے ہیں۔ ہم خدا جانے صحت مند ہیں یا نہیں مگر ہمارا جسم ان پیمانوں پر صد فی صد پورا اترتا ہے۔ ملاحظہ ہوں:

  • یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ آپ کے دونوں بازوؤں کا پھیلاؤ آپ کے قد کے برابر ہوتا ہے۔ مگر یہ بات شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ آپ کے سر کی لمبائی (سر کی چوٹی سے گردن تک) آپ کے پاؤں کی لمبائی یا کمر کی چوڑائی کے برابر ہوتی ہے۔
  • آپ کی کلائی (ہاتھ کے اختتام سے) آپ کی کہنی تک کا اندرونی فاصلہ آپ کے پاؤں کی لمبائی کے بالکل برابر ہوتا ہے۔
  • آپ کی کمر کی لمبائی بیٹھنے کی جگہ سے لے کر سر کی چوٹی تک آپ کے پاؤں کی لمبائی سے عین تین گنا ہوتی ہے۔
  • آپ کی کمر کی چوڑائی آپ کے پاؤں کے لمبائی کے برابر ہوتی ہے۔
  • آپ کی کمر کا محیط (circumference) آپ کی گردن کے محیط کا عین دگنا ہوتا ہے۔
  • اسی طرح آپ کی گردن کا محیط آپ کی کلائی کے محیط سے دگنا ہوتا ہے۔
  • آپ کی ناک کی لمبائی آپ کی انگشتِ شہادت کی پہلی دو پوروں کے بالکل برابر ہوتی ہے۔
  • آپ کے چہرے کی لمبائی آپ کے ہاتھ کی لمبائی کے مساوی ہوتی ہے۔
  • آپ کی پنڈلی آپ کے پاؤں سے دگنی لمبی ہوتی ہے۔
  • آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان کا فاصلہ آپ کی ایک آنکھ کی چوڑائی کے برابر ہوتا ہے۔
  • چونکہ آپ کے بازوؤں کا کل پھیلاؤ آپ کے قد کے مساوی ہوتا ہے اس لیے ہاتھوں اور پاؤں کی دائیں بائیں حرکات مکمل طور پر دائروی ہوتی ہیں۔
  • آپ کے شانے چوڑائی میں آپ کی کمر کی چوڑائی اور سر یا پیر کی لمبائی سے دگنے ہوتے ہیں۔
  • آپ کا قد تقریباً آپ کے ہاتھ کی لمبائی سے دس گنا اور پاؤں کی لمبائی سے سات گنا ہوتا ہے۔
  • آپ کی ناک کے پیندے سے آپ کی آنکھ کے بیرونی کنارے تک کا فاصلہ آپ کے کان کی لمبائی کے مساوی ہوتا ہے۔

تقویمِ احسن کی ایک جھلک تو آپ نے دیکھ لی۔ سورۃ التین کی باقی آیات بھی خاصی غورطلب ہیں۔ پوری سورت کا بامحاورہ ترجمہ کچھ یوں ہے:

"انجیر اور زیتون گواہ ہیں۔ اور سینا کا پہاڑ۔ اور یہ امن والا شہر۔ بےشک ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت پر خلق کیا۔ (اور) پھر اسے سب پستوں سے زیادہ پست کر ڈالا۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے سو ان کے لیے نہ ختم ہونے والا بدلہ ہے۔ اب اس کے بعد کیا (رہ جاتا) ہے کہ تو دین کو جھٹلائے؟ کیا اللہ حکم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر حکم کرنے والا نہیں؟”

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو نثر نگار۔

Prevپچھلی نگارشہر تان ہے دیپک!
اگلی نگارشکچھ اور سخن کر کہ غزل سلکِ گہر ہے!Next

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

2 خیالات ”انسان کا تناسبِ اعضا“ پر

  1. Zulqarnain Sarwar
    3 جنوری 2017ء بوقت 18:32

    شکریہ راحیل بھائی

    جواب دیں
    1. راحیلؔ فاروق
      28 فروری 2017ء بوقت 19:18

      کس بات کا، مولائی؟

      جواب دیں

آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل کا پتا شائع نہیں کیا جائے گا۔ تبصرہ ارسال کرنے کے لیے * کے نشان والے خانے پر کرنا ضروری ہے۔

اردو نثر

راحیلؔ فاروق کی نثری نگارشات۔ شعری، ادبی، فکری، معاشرتی اور مذہبی موضوعات پر انشائیے، مضامین اور شذرات۔

آپ کے لیے

بلا مشورہ

30 جولائی 2015ء

بر رسولاں بلاغ است و بس

24 اپریل 2012ء

عید مبارک!

15 اکتوبر 2013ء

اصلاح

10 مارچ 2023ء

ملّا اور گالی

2 دسمبر 2017ء

تازہ ترین

انفرادیت کی تلاش

30 جنوری 2026ء

صحبتِ بد

10 جنوری 2026ء

رعایت

24 دسمبر 2025ء

کتے

20 دسمبر 2025ء

روٹی اور پڑھائی

10 اگست 2025ء
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔