جدل حلال پہ کی کُشت و خوں حرام پہ کی
پجاریوں نے خدائی خدا کے نام پہ کی
غضب کی شعلہ بیانی ہے منہ میں آگ ہے آگ
خدا نے خوب پکڑ شیخ کے کلام پہ کی
یہی عوام جو ہیں بھیڑ بکریوں کی طرح
خواص نے بھی حکومت انھی عوام پہ کی
زوالِ اُمّہ کے ہم لوگ ذمہ دار نہیں
یہ چوٹ وقت نے خود وقت کے امام پہ کی
خود اس نے حشر نہ برپا کیا تو پھر ناچار
توجہ مولویوں نے خدا کے کام پہ کی
یہ کس نے کفر پہ پھبتی کَسی ہے منبر سے
ستم ظریف نے کیا بات کس مقام پہ کی
جو ناگوار ہوئی شیخ کی طبیعت کو
وہ بات ختم ہی دنیا کے اختتام پہ کی
کسی کسی نے لیا کام عقل سے راحیلؔ
وگرنہ اس نے عنایت تو خاص و عام پہ کی
2 خیالات ”جدل حلال پہ کی کُشت و خوں حرام پہ کی“ پر
السلام علیکم
ماشاءاللہ ،
بہت عمدہ لاجواب غزل بھیا۔
وعلیکم السلام، نقیبی بھائی۔
میں آپ کی محبت اور مستقل حوصلہ افزائی کے لیے بےانتہا ممنون ہوں۔ اللہ پاک آپ کو جزائے خیرِ کثیر عطا فرمائے اور یہ تعلقِ خاطر سلامت رکھے!