دعا سلام بہت ہے کلام رہنے دے
جو لوگ عام ہیں ان کو تو عام رہنے دے
ارادہ باندھ غمِ انتظام رہنے دے
خدا کے ذمے بھی دو چار کام رہنے دے
جہانِ شوق کی تعمیر حسرتیں کر لیں
کچھ اور دیر انھیں ناتمام رہنے دے
ستم نہ کر تو کسی اور پر نہ کر صیاد
جو آ گئے ہیں انھیں زیرِ دام رہنے دے
عظیم ذہن کا ہے حافظہ عظیم ترین
مجال ہے کہ خدا کا بھی نام رہنے دے
تکلفات مساجد میں اچھے لگتے ہیں
سجودِ شوق کو بےاہتمام رہنے دے
مجھے خرید مجھے بیچ لیکن ایک ہی ہاتھ
غلام جس کا ہوں اس کا غلام رہنے دے
حقیقتوں کی حقیقت بھی کچھ نہیں کمبخت
خیالِ خام کو راحیلؔ خام رہنے دے
4 خیالات ”دعا سلام بہت ہے کلام رہنے دے“ پر
کیا کہنے ہر ایک شعر کمال است بہت خوب خصوصاً یہ چار اشعار بہت اعلیٰ
عظیم ذہن کا ہے حافظہ عظیم ترین
مجال ہے کہ خدا کا بھی نام رہنے دے
تکلفات مساجد میں اچھے لگتے ہیں
سجودِ شوق کو بےاہتمام رہنے دے
مجھے خرید مجھے بیچ لیکن ایک ہی ہاتھ
غلام جس کا ہوں اس کا غلام رہنے دے
حقیقتوں کی حقیقت بھی کچھ نہیں کمبخت
خیالِ خام کو راحیلؔ خام رہنے دے
واہ۔ کیا ہی عمدہ غزل ہے۔ اعلیٰ
نین بھائی اور فرحان، بندہ شکرگزار ہے۔
دعا سلام بہت ہے کلام رہنے دے
جو لوگ عام سے ہیں ان کو عام رہنے دے
تکلفات مساجد میں اچھے لگتے ہیں
سجودِ شوق کو بےاہتمام رہنے دے
آہا کیا ہی خوب