عاشق گلہ کرے تو کرے کیوں سماج کا
خود کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا
لت شاعری میں پڑ گئی ہے اقتدار کی
ورنہ ہمیں دماغ کہاں تخت و تاج کا
چارہ گراں امید کا دامن نہ چھوڑیے
بیمار کو تو چاؤ بہت تھا علاج کا
مجھ کو تو آب و ناں ہی بہت ہے جہاں پناہ
پیاسا ہوں خون کا نہ میں بھوکا خراج کا
جو جی میں آئے ہانکیے جدت کے نام پر
کچھ ذوق سے نہیں ہے تعلق رواج کا
کہنے کو آج ہجر سہا کل وصال ہے
راحیلؔ اختیار نہ کل کا نہ آج کا
1 خیال ”عاشق گلہ کرے تو کرے کیوں سماج کا“ پر
ہر ایک شعر کمال واہ خصوصاً
لت شاعری میں پڑ گئی ہے اقتدار کی
ورنہ ہمیں دماغ کہاں تخت و تاج کا
جو جی میں آئے ہانکیے جدت کے نام پر
کچھ ذوق سے نہیں ہے تعلق رواج کا
واہ واہ واہ کمال است