جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

تحت اللفظ

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا
پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا

کہتے ہیں عمرِ رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

ساغر شکن ہے شیخِ بلا نوش کی نظر
شیشے کو زیرِ دامنِ رنگیں چھپا کے لا

کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینئ بہار
جا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے لا

دیکھی نہیں ہے تو نے کبھی زندگی کی لہر
اچھا تو جا عدمؔ کی صراحی اٹھا کے لا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ