ماں جی سے

اردو شاعری

کیوں جھگڑتی ہیں بے سبب، ماں جی؟
میں بڑا ہو گیا ہوں اب، ماں جی!

بھلے وقتوں کی آپ کی ہے سوچ
اب بھلا وقت ہی ہے کب، ماں جی؟

وہ زمانہ نہیں رہا، مانیں!
ہے یہی زندگی کا ڈھب، ماں جی

میں تو پھر آپ سے ہوا باغی
لوگ بھولے ہوئے ہیں رب، ماں جی

اندھے قانون کچھ ہیں فطرت کے
یہ خدا کا نہیں غضب، ماں جی

آپ نے بھی تو زندگی کی ہے
جانتی ہوں گی آپ سب، ماں جی

میں سمجھ لوں گا آپ کی باتیں
آپ جتنا بنوں گا جب، ماں جی

آپ بس یہ دعائیں میرے لیے
چھوڑیے گا نہ اب نہ تب، ماں جی

ہے تو بیٹا نا آپ کا راحیلؔ؟
لڑکے ہوتے ہیں بے ادب، ماں جی​!

۲۰۰۹ء

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ