کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے

30 ستمبر 2016 ء

کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے
کبھی ان سنی بھی سنا کیجیے

دعائیں بھی لے لوں گا گر جی گیا
مرا جا رہا ہوں، دوا کیجیے

نئے وعدے کا شکریہ، مہرباں
پرانا بھی کوئی وفا کیجیے

محبت وراثت نہ تھی آپ کی
یہ قرض آپ پر ہے، ادا کیجیے

غزل جانتا ہے زمانہ اسے
تڑپ جائیے تو صدا کیجیے

نگہ ہے کہ فتنہ؟ ادا ہے کہ حشر؟
کرم کو ستم سے جدا کیجیے

کبھی ان کی منت، کبھی دل پہ جبر
کوئی بھی نہ مانے تو کیا کیجیے؟

در ان کا ہے راحیلؔ، انھی کے ہیں آپ
حضور، آپ بیٹھے رہا کیجیے!

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!