کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے
کبھی ان سنی بھی سنا کیجیے
دعائیں بھی لے لوں گا گر جی گیا
مرا جا رہا ہوں، دوا کیجیے
نئے وعدے کا شکریہ، مہرباں
پرانا بھی کوئی وفا کیجیے
محبت وراثت نہ تھی آپ کی
یہ قرض آپ پر ہے، ادا کیجیے
غزل جانتا ہے زمانہ اسے
تڑپ جائیے تو صدا کیجیے
نگہ ہے کہ فتنہ؟ ادا ہے کہ حشر؟
کرم کو ستم سے جدا کیجیے
کبھی ان کی منت، کبھی دل پہ جبر
کوئی بھی نہ مانے تو کیا کیجیے؟
در ان کا ہے راحیلؔ، انھی کے ہیں آپ
حضور، آپ بیٹھے رہا کیجیے!
4 خیالات ”کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے“ پر
واہ واہ واہ ۔۔ ہر ایک شعر بے مثال اور زبر دست ۔۔ ڈ ھیروں داد
عنایت، عامر بھائی۔ ڈھیروں شکریہ!
لاجواب۔۔۔۔