ستم روز روز اے ستم گر نہ ڈھا

اردو شاعری

ستم روز روز اے ستم گر نہ ڈھا
کسی روز محشر بپا کر دکھا

جفا دے رہی ہے سبق ضبط کا
ادھر ابتدا اور ادھر انتہا

مبارک ہو سرکار میں مر چلا
مبارک ہو دل آپ کا ہو گیا

تری شکل وحشی نے کیوں دیکھ لی
دل اب مجھ کو صحرا میں لے جائے گا

بھلا ہو ترے مخبروں کا مگر
مرا حال خود بھی کبھی دیکھ جا

اسے دیکھ کر بات کیا کیجیے
مگر واہ وا، واہ وا، واہ وا!

یگانہ ہوں میں اور زمانہ ہے تو
اکیلا چنا بھاڑ پھوڑے گا کیا؟

خدا شاعری کی سمجھ دے اسے
غزل میں تو راحیلؔ سب کہہ دیا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ