عالم تمام شے ہے مگر تجھ سی شے کہاں

عالم تمام شے ہے مگر تجھ سی شے کہاں
ہے اور کچھ پتا نہیں چلتا کہ ہے کہاں

پیاسا ہے پارساؤں کی بستی میں ہر کوئی
کوئی بہشت ڈھونڈیے دوزخ میں مے کہاں

ہم اٹھ کے اس کی بزم سے جانے کہاں گئے
ہم سے کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ اے کہاں

گرتے ہیں ٹوٹ ٹوٹ کے تارے شبِ فراق
اونچی ہوئی تو جائے گی نالوں کی لے کہاں

مٹی پلید ہو گئی پھر مےکدے کی آج
کوئی بتاؤ شیخ کو کرتے ہیں قے کہاں

اے میرِ کاروانِ وفا دھیرے دھیرے چل
ان منزلوں کے راستے ہوتے ہیں طے کہاں

ہر کوئی چل رہا ہے کوئی پوچھتا نہیں
جو پہلے ہم سفر تھے گئے پے بہ پے کہاں

راحیلؔ دل کی آہ کے جو جو مقام ہیں
وہ قسمتِ رباب و دف و چنگ و نے کہاں

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر ہیں۔

فہرستِ کلام
یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟