تامل تذبذب تردد تکلف

15 نومبر 2016 ء

تامل تذبذب تردد تکلف
وفا ناشناسوں کی مکاریاں اف

اسے جاننے والے پہچانتے ہیں
ستم گر کا ہے نام اس کا تعارف

مجھے عشق نے ہر دو عالم دکھائے
نہ میں فلسفہ داں نہ اہلِ تصوف

محبت تھی دنیا سے دنیا نے مارا
محبت پر افسوس محبوب پر تُف

مِرا حاصلِ عمر مَیں ہوں الٰہی
سراپا ندامت سراپا تاسُف

ادھر تم چلے اور ادھر جان نکلی
کہاں کا تحمل کہاں کا توقف

غزل یہ ہے راحیلؔ شانِ تغزل
اسے کہتے ہیں قافیے کا تصرف

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!